📖 القرآن الكريم
اللہ تعالیٰ کا ابدی اور زندہ معجزہ — 114 سورتیں، 6,236 آیات مع ترتیبِ مصحف و ترتیبِ نزولی (مصحفِ امام علیؑ) اور مستند تراجم۔
تمام امہات الکتب کو سنِ تصنیف و کتابت کی تاریخی ترتیب سے مرتب کیا گیا ہے (جو کتاب پہلے لکھی گئی وہ پہلے)، تاکہ محققین و قارئین اسلامی فکری و تشریعی تاریخ کو اصل تسلسل کے ساتھ سمجھ سکیں۔
اللہ تعالیٰ کا ابدی اور زندہ معجزہ — 114 سورتیں، 6,236 آیات مع ترتیبِ مصحف و ترتیبِ نزولی (مصحفِ امام علیؑ) اور مستند تراجم۔
امیر المؤمنین حضرت علیؑ کا تاریخی دستورِ حکمرانی جو اقوامِ متحدہ کے انسانی منشور کی بنیاد تسلیم کیا گیا ہے۔
امیر المؤمنین حضرت علیؑ کی 160 سے زائد متبرک دعاؤں اور مناجاتوں کا جامع ترین ذخیرہ (دعائے صباح، سمات، مشلول اور مناجاتِ کوفہ)۔
سبطِ اکبر امام حسن مجتبیؑ کے صلح نامہ، توحید، اخلاقِ حسنہ اور حکمت و معرفت پر مبنی ارشاداتِ عالیہ۔
میدانِ عرفات میں سید الشہداء امام حسینؑ کی بارگاہِ الٰہی میں عاجزی، عرفانِ توحید اور مناجات کا بے مثل شہکار۔
سفرِ کربلا، احیائے دینِ نبوی کے بیانات، خطباتِ عاشورہ اور ظالم کے خلاف صدائے احتجاج کے ابدی فرامین۔
اسلام کی قدیم ترین مدوّن کتاب جس میں سقیفہ، جمعِ قرآن و مصحفِ علیؑ، حدیثِ غدیر و ثقلین اور بارہ ائمہؑ کی امامت مذکور ہے۔
زبورِ آلِ محمدؑ — 54 متبرک دعائیں، مناجاتِ خمس عشرہ، توبہ، مکارم الاخلاق اور معرفتِ الٰہی کا بحرِ بیکراں۔
اسلام کا اولین مدوّن منشورِ حقوق جس میں خدا، نفس، زبان، آنکھ، کان، والدین، اولاد، پڑوسی اور حکمرانوں کے 50 حقوق بیان ہوئے۔
امام جعفر صادقؑ کا اخلاق، سیر و سلوک اور عرفانِ حقیقی پر مشتمل شاہکار جس میں 100 ابواب کے تحت روح کی پاکیزگی بیان ہوئی۔
اہل سنت کی اولین مدوّن ترین کتابِ حدیث و فقہ جو مدینہ منورہ کے عمل اور احادیثِ رسول ﷺ پر مبنی ہے۔
طب اور حفظانِ صحت پر ائمہ اہل بیتؑ کا عظیم سائنسی شاہکار جو خلیفہ مامون کے حکم پر خالص سونے کے پانی سے لکھا گیا تھا۔
فقہی ابواب (طہارت، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور معاملات) پر امام علی رضاؑ کے فتاویٰ اور احادیث کا نادر مجموعہ۔
اہل سنت کے نزدیک قرآن کے بعد اصح الکتب — 7,589 مستند احادیثِ نبویہ کا سب سے بڑا مجموعہ۔
سورۃ فاتحہ اور سورۃ بقرہ کی جامع تفسیر، فضائلِ قرآن و اہل بیتؑ اور معجزاتِ نبوی پر امام حسن عسکریؑ کے بصیرت افروز ارشادات۔
اسناد و حسنِ ترتیب میں بے مثال — صحیح احادیثِ نبویہ کا عظیم الشان ذخیرہ۔
صحاحِ ستہ کی معتبر کتاب جس میں فقہی ابواب اور احکام کی نادر احادیث جمع کی گئی ہیں۔
احکام، حلال و حرام اور فقہی استدلال کے لیے تمام ائمۂ اسلام کا متفقہ بنیادی ماخذ۔
احادیثِ رسول ﷺ، مذاہبِ فقہاء اور احادیث کے درجات (صحیح، حسن، غریب) کی تعیین کا نادر مجموعہ۔
تیسری صدی ہجری کی مایہ ناز تصنیف جس میں ائمہ اہل بیتؑ کے مقام، علمِ غیب، قرآن فہمی اور کتبِ انبیاء کی وراثت پر روایات جمع کی گئیں۔
صحتِ روایات کی کڑی شرائط کے اعتبار سے صحیحین کے بعد اہل سنت کے نزدیک بلند ترین مقام۔
امام نسائی کی جلیل القدر تصنیف جس میں حضرت علی مرتضیٰؑ کے فضائل و مناقب کو قوی اسناد کے ساتھ جمع کیا گیا۔
کتبِ اربعہ کا اولین و معتبر ترین ماخذ — کتاب العقل، کتاب التوحید، اور ائمہ طاہرینؑ کے بنیادی ارشادات۔
زیاراتِ رسول اللہ ﷺ، امیر المؤمنینؑ اور امام حسینؑ پر اسلامی تاریخ کا معتبر ترین مرجع جس میں کربلا پر گریہ اور ثوابِ زیارت کی روایات جمع ہیں۔
توحید، صفاتِ باری تعالیٰ، نفیِ تشبیہ و تجسیم اور عدلِ الٰہی پر ائمہ اہل بیتؑ کے دلائل کا خزانہ۔
شیخ صدوقؒ کی شاہکار کتاب جس میں اعداد (1، 2، 3 سے لے کر 1,000 تک) کی ترتیب سے اخلاق، عقائد اور احکام کی 1,255 احادیث جمع کی گئیں۔
امام علی بن موسیٰ الرضاؑ کے عیسائی، یہودی، زرتشتی اور ملحد علماء سے تاریخی مناظرات اور گراں قدر احادیث پر مشتمل 69 ابواب کا انسائیکلوپیڈیا۔
شیخ صدوقؒ کی مکہ مکرمہ میں امام زمانہؑ کے حکم سے تصنیف کردہ کتاب جس میں انبیاء کے واقعات اور عقلی و نقلی دلائل سے غیبتِ امام مہدیؑ ثابت کی گئی۔
کتبِ اربعہ کی دوسری عظیم ترین کتاب جس میں عبادات، احکام اور معاملات پر ائمہ اہل بیتؑ کی 5,963 مستند احادیث جمع کی گئیں۔
حکمت و موعظت کا وہ درخشاں خزانہ جس میں رسول اللہ ﷺ اور تمام ائمہ معصومینؑ کے طویل خطبات، وصیتیں اور عقل و اخلاق کے رہنما اصول یکجا ہیں۔
عربی فصاحت و بلاغت کا بے نظیر شاہکار (کلامٌ دون کلام الخالق وفوق کلام المخلوق) — امیر المؤمنینؑ کا کلام۔
امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے منظوم اشعار، اخلاق، توکل، شجاعت اور معرفت کا پاکیزہ کلام۔
امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے 11,000 سے زائد جامع کلماتِ حکمت جو حروفِ تہجی کے اعتبار سے مدوّن کیے گئے۔
رسول اللہ ﷺ اور ائمہ طاہرینؑ کے فلاسفہ، ملحدین اور دیگر مذاہب کے پیشواؤں سے علمی، عقلی و کلامی مناظرات کا مستند ترین ماخذ۔