Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار

كلمات وخطبات الإمام الحسنؑ

کلمات و خطباتِ امام حسن مجتبیؑ

4 خطبات، کلمات و وصایا
📅 سنِ تالیف: 50ھ (670ء) ⭐ سبطِ رسول ﷺ و خلیفۂ راشد 🏷️ خطبات و مکارم الاخلاق
عالم سے کلمات و خطباتِ امام حسن مجتبیؑ کے بارے میں پوچھیں:

خطبات، کلمات و وصایا — صفحہ 1 از 1

مجموعی 4 خطبات، کلمات و وصایا
🕊️ کلمات و خطباتِ امام حسن مجتبیؑ — حدیث 1
مسند الإمام الحسنؑ (خطبہ 1)
📖 کتاب: کلمات و خطباتِ امام حسن مجتبیؑ (صلح، حکمت و مکارم الاخلاق) › خطبہ 1: شہادتِ امیر المؤمنینؑ کے بعد خطبہ اور مقامِ اہلِ بیتؑ
راوی:
خَطَبَ الإِمَامُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ (عَلَيْهِمَا السَّلَامُ) بَعْدَ اسْتِشْهَادِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ (ع)، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «لَقَدْ قُبِضَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ رَجُلٌ لَمْ يَسْبِقْهُ الْأَوَّلُونَ بِعَمَلٍ، وَلَا يُدْرِكُهُ الْآخِرُونَ؛ كَانَ رَسُولُ اللهِ (ص) يُعْطِيهِ رَايَتَهُ فَيُقَاتِلُ، جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ وَمِيكَائِيلُ عَنْ شِمَالِهِ، فَلَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَفْتَحَ اللهُ عَلَيْهِ... أَيّ...
اردو: امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالبؑ کی شہادت کے بعد امام حسن مجتبیؑ نے منبر پر خطبہ دیا؛ اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: «آج کی رات وہ عظیم ہستی رخصت ہو گئی جن سے نہ پہلے والے عمل میں سبقت لے جا سکے اور نہ بعد میں آنے والے ان کے مرتبے کو پہنچ سکتے ہیں! رسول اللہ ﷺ ان کو اپنا علم عطا فرماتے تھے تو وہ اس حال میں نبرد آزما ہوتے تھے کہ جبرائیل ان کے دائیں اور میکائیل ان کے بائیں ہوتے تھے، اور وہ اس وقت تک پلٹتے نہیں تھے جب تک کہ اللہ ان کے ہاتھوں فتح نہ عطا فرما دے!... اے لوگو! جو مجھے پہچانتا ہے وہ تو پہچانتا ہی ہے، اور جو نہیں پہچانتا وہ سن لے کہ: میں حسن بن علی ہوں، میں نبیِ خدا کا نواسہ ہوں، میں وصیِ رسول کا فرزند ہوں، میں بشیر و نذیرؐ کا لختِ جگر ہوں، میں سراجِ منیرؐ کی نسل سے ہوں، میں اس اہل بیتؑ میں سے ہوں جن سے اللہ نے ہر قسم کی ناپاکی کو دور رکھا اور انہیں ایسا پاک رکھا جیسا پاک رکھنے کا حق ہے! اور میں اس پاکیزہ گھرانے سے ہوں جن کی محبت کو اللہ نے اپنی کتاب میں ہر مومن پر واجب قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے: ﴿کہہ دیجیے کہ میں تم سے اس رسالت پر کوئی اجرت نہیں مانگتا سوائے اپنے قرابت داروں کی محبت کے!﴾»
English: Imam al-Hasan ibn Ali (AS) delivered a majestic sermon following the martyrdom of Amir al-Mu'minin Ali (AS). Having praised Allah, he proclaimed: 'Tonight there has passed away a man whom none of the ancients surpassed in deeds, nor will any of the later generations ever attain his station! The Mess ...
مکمل کلام پڑھیں ←
🕊️ کلمات و خطباتِ امام حسن مجتبیؑ — حدیث 2
مسند الإمام الحسنؑ (خطبہ 2)
📖 کتاب: کلمات و خطباتِ امام حسن مجتبیؑ (صلح، حکمت و مکارم الاخلاق) › خطبہ 2: صلح کا فلسفہ، امت کا اتحاد اور مسلمانوں کے خون کی حفاظت
راوی:
خَطَبَ الإِمَامُ الْحَسَنُ (عَلَيْهِ السَّلَامُ) مُبَيِّناً حِكْمَةَ الصُّلْحِ وَحِفْظِ الْأُمَّةِ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ أَكْيَسَ الْكَيْسِ التُّقَى، وَإِنَّ أَحْمَقَ الْحُمْقِ الْفُجُورُ. وَإِنَّكُمْ لَوْ طَلَبْتُمْ بَيْنَ جَابَلْقَ وَجَابَرْسَ رَجُلاً جَدُّهُ رَسُولُ اللهِ (ص) مَا وَجَدْتُمُوهُ غَيْرِي وَغَيْرَ أَخِي الْحُسَيْنِ. وَإِنَّ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ... إِنِّي رَأَيْتُ حَقْنَ دِمَاءِ الْم...
اردو: امام حسن مجتبیؑ نے صلح کی حکمت اور امت کے تحفظ پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: «اے لوگو! سب سے بڑی دانائی تقویٰ و پرہیزگاری ہے، اور سب سے بڑی حماقت و نادانی گناہ اور فسق ہے۔ اور اگر تم مشرق سے مغرب تک تلاش کرو تو میرے اور میرے بھائی حسینؑ کے علاوہ روئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں پاؤ گے جس کے نانا رسول اللہ ﷺ ہوں! میں نے دیکھا کہ مسلمانوں کے خون کی حفاظت کرنا اس کو بہانے سے کہیں بہتر ہے۔ اور میرا مقصد اس اقدام سے صرف اور صرف تمہاری بقا، تمہاری اصلاح اور دینِ اسلام کی حفاظت کے سوا کچھ نہ تھا، ﴿اور میں نہیں جانتا، شاید یہ تمہارے لیے ایک آزمائش ہو اور ایک مقررہ وقت تک کا فائدہ!﴾»
English: Imam al-Hasan (AS) addressed the people elucidating the philosophy of the peace treaty and the safeguarding of the Muslim Ummah: 'O people! Truly the sharpest sagacity is piety, and the sheerest foolishness is corruption. If you were to search between the farthest east and the farthest west for a ma ...
مکمل کلام پڑھیں ←
🕊️ کلمات و خطباتِ امام حسن مجتبیؑ — حدیث 3
مسند الإمام الحسنؑ (حکمت نمبر 3)
📖 کتاب: کلمات و خطباتِ امام حسن مجتبیؑ (صلح، حکمت و مکارم الاخلاق) › کلام 3: مکارم الاخلاق، کرم، عقل اور حلم کی جامع تعریف
راوی:
سُئِلَ الإِمَامُ الْحَسَنُ الْمُجْتَبَى (عَلَيْهِ السَّلَامُ) عَنْ خِصَالِ الْفَضْلِ، فَقَالَ: «سُئِلَ عَنِ الْـمُرُوءَةِ، فَقَالَ: حِفْظُ الدِّينِ، وَعِزَّةُ النَّفْسِ، وَلِينُ الْكَنَفِ، وَتَعَهُّدُ الصَّنِيعَةِ، وَأَدَاءُ الْحُقُوقِ، وَالتَّحَبُّبُ إِلَى النَّاسِ. وَسُئِلَ عَنِ الْكَرَمِ، فَقَالَ: الِابْتِدَاءُ بِالْعَطِيَّةِ قَبْلَ الْمَسْأَلَةِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ فِي الْـمَحَلِ. وَسُئِلَ عَنِ الْحِلْمِ، فَقَالَ: كَظْمُ الْغَيْظِ، وَمَلْ...
اردو: امام حسن مجتبیؑ سے فضائلِ اخلاق کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپؑ نے فرمایا: «آپؑ سے مروءت (انسانیت و شرافت) کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: دین کی حفاظت کرنا، عزتِ نفس برقرار رکھنا، لوگوں سے نرمی کا برتاؤ کرنا، احسان کی پاسداری کرنا، حقوق ادا کرنا، اور لوگوں کے ساتھ محبت و الفت سے پیش آنا۔ کرم و سخاوت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: سائل کے مانگنے سے پہلے خود آگے بڑھ کر عطا کرنا، اور قحط و ضرورت کے وقت کھانا کھلانا۔ حلم و بردباری کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: غصے کو پی جانا اور غضب کے وقت نفس پر قابو رکھنا۔ اور آپؑ نے فرمایا: جس کے پاس عقل نہیں اس کا کوئی ادب نہیں، جس کے پاس بلند ہمت نہیں اس کی کوئی مروءت نہیں، اور جس کے پاس دین نہیں اس کی کوئی حیا نہیں؛ اور عقل کا سب سے اعلیٰ کمال لوگوں کے ساتھ خوبصورت اور نیک برتاؤ کرنا ہے۔»
English: Imam al-Hasan al-Mujtaba (AS) was asked regarding the virtues of noble character, whereupon he answered: 'He was asked about chivalrous dignity (Muru'ah), and said: "Guarding the faith, preserving self-respect, gentleness of conduct, sustaining good deeds, fulfilling obligations, and showing affecti ...
مکمل کلام پڑھیں ←
🕊️ کلمات و خطباتِ امام حسن مجتبیؑ — حدیث 4
مسند الإمام الحسنؑ (وصیت 4)
📖 کتاب: کلمات و خطباتِ امام حسن مجتبیؑ (صلح، حکمت و مکارم الاخلاق) › کلام 4: سفرِ آخرت کی تیاری اور جنادہ بن ابی امیہ کو وصیت
راوی:
دَخَلَ جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ عَلَى الإِمَامِ الْحَسَنِ (عَلَيْهِ السَّلَامُ) فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ لَهُ: عِظْنِي يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ! فَقَالَ: «نَعَمْ، اسْتَعِدَّ لِسَفَرِكَ، وَحَصِّلْ زَادَكَ قَبْلَ حُلُولِ أَجَلِكَ، وَاعْلَمْ أَنَّكَ تَطْلُبُ الدُّنْيَا وَالْـمَوْتُ يَطْلُبُكَ، وَلَا تَحْمِلْ هَمَّ يَوْمِكَ الَّذِي لَمْ يَأْتِكَ عَلَى يَوْمِكَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ. وَاعْلَمْ أَنَّكَ لَا تَكْسِبُ مِنَ الْمَالِ فَوْقَ قُوتِكَ إِلَّا ...
اردو: جنادہ بن ابی امیہ امام حسن مجتبیؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے فرزندِ رسول اللہ! مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔ آپؑ نے فرمایا: «ہاں! اپنے آخرت کے سفر کے لیے تیار رہو، اور موت کی آمد سے پہلے اپنا زادِ راہ اکٹھا کر لو۔ اور جان لو کہ تم دنیا کے پیچھے دوڑ رہے ہو جبکہ موت تمہارے تعاقب میں لگی ہوئی ہے! اور جو کل کا دن ابھی آیا ہی نہیں اس کی فکر و پریشانی کو اپنے آج کے دن پر مت لادو۔ اور یقین جانو کہ تم اپنی بنیادی ضرورت و خوراک سے زیادہ جو مال بھی کماتے ہو، اس میں تم صرف دوسروں کے لیے خزانچی کا کام کر رہے ہو (جو مرنے کے بعد وارثوں کا ہو جائے گا)۔ اور یاد رکھو کہ دنیا کے حلال میں حساب ہے، اس کے حرام میں عذاب ہے، اور اس کے مشتبہ امور میں سرزنش و عتاب ہے۔ پس دنیا سے صرف اتنا لو جتنا تمہاری ضرورت کے لیے کافی ہو۔ اور اگر تم کسی قبیلے و جتھے کے بغیر حقیقی عزت، اور کسی ظاہری سلطنت و حکومت کے بغیر رعب و وقار چاہتے ہو، تو اللہ کی نافرمانی کی ذلت سے نکل کر اللہ عزوجل کی بندگی اور اطاعت کی عزت میں داخل ہو جاؤ!»
English: Junadah ibn Abi Umayyah visited Imam al-Hasan (AS) and said: 'Admonish me, O son of the Messenger of Allah!' The Imam replied: 'Yes, prepare for your ultimate journey, and gather your provisions before the arrival of your appointed hour! Know that you pursue this world while death pursues you, and d ...
مکمل کلام پڑھیں ←