📔
سنن ابن ماجه
سنن ابن ماجہ
حدیث 4109
نَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى حَصِيرٍ فَقَامَ وَقَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْنَا لَكَ وِطَاءً! فَقَالَ: «مَا لِي وَلِلدُّنْيَا؟ مَا أَنَا فِي الدُّنْيَا إِلاَّ كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا»
🇵🇰 اردو ترجمہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی پر سوئے اور بیدار ہوئے تو آپ کے پہلو مبارک پر چٹائی کے نشانات بن گئے تھے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کاش ہم آپ کے لیے کوئی نرم بستر بنا دیں! آپ ﷺ نے فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق؟ میری اور دنیا کی مثال تو محض اس سوار کی مانند ہے جو سخت گرمی میں ایک درخت کے سائے تلے تھوڑی دیر سستا لے، پھر اسے چھوڑ کر اپنی منزل کی طرف چل دے۔
🇬🇧 English Translation
The Messenger of Allah (ﷺ) slept on a straw mat and woke up with marks on his side. We said: 'O Messenger of Allah, if only we prepared a soft mattress for you!' He replied: 'What do I have to do with this world? My parable with the world is only like a rider who shades under a tree, then departs and leaves it behind.'
موضوعات:
🔮 اس حدیث کے معانی و تشریح جاننا چاہتے ہیں؟