الْقُرْآنُ الْكَرِيمُ
کلامِ الٰہی — وحیِ خداوندی و دستورِ حیات (مکمل 114 متبرک سورتیں، 6,236 آیات مع اردو و انگریزی ترجمہ و تلاوت)
The Holy Quran — The Direct Word of Almighty Allah (Complete Arabic Text, Recitation & Translations)
مصحفِ امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالبؑ اور ترتیبِ نزولی کی تحقیق
علومِ قرآن کی روشنی میں وحیِ الٰہی کی تاریخی اور زمانی ترتیب کا تفصیلی جائزہ
تاریخی پس منظر اور جمعِ اول
وصالِ نبوی ﷺ کے فوراً بعد حضرت علی بن ابی طالبؑ نے قسم کھائی کہ جب تک قرآن مجید کو عین نزول کے مطابق جمع نہ کر لیں گے، رداء (عبا) نہیں اوڑھیں گے۔ آپ نے وحی کے نزول کے تاریخی تسلسل پر مکمل مصحف مدوّن فرمایا۔
حوالہ جات: طبقات ابن سعد (ج۲ ص۳۳۸)، الاتقان فی علوم القرآن للسیوطی، تاریخ یعقوبی (ج۲ ص۱۳۵)، الفہرست لابن الندیم۔
مکی و مدنی سورتوں کی تفریق
اس مصحف میں سب سے پہلے نازل ہونے والی مکی سورتیں (۸۶ سورتیں، آغاز: سورۃ العلق «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ») رکھی گئیں، اور اس کے بعد ہجرت کے مدنی دور کی سورتیں (۲۸ سورتیں، آغاز: سورۃ البقرہ، اختتام: سورۃ النصر / التوبہ) شامل فرمائی گئیں۔
ناسخ و منسوخ اور اسبابِ نزول کا اندراج
مصحفِ امام علیؑ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں ہر آیت کا سببِ نزول (شانِ نزول)، مقام (مکہ، مدینہ، میدانِ بدر، احد یا عرفات)، وقت (دن یا رات) اور ناسخ و منسوخ کی مکمل وضاحت درج تھی۔
امام علیؑ کا ارشاد: «واللہ کوئی آیت ایسی نہیں نازل ہوئی مگر مجھے معلوم ہے کہ وہ کیوں نازل ہوئی اور کہاں نازل ہوئی۔» (الاستیعاب، حلیۃ الاولیاء)
توقیفی (مصحفی) اور نزولی ترتیب کا شرعی فرق
ترتیبِ توقیفی (مصحفِ عثمانی): موجودہ ۱۱۴ سورتوں کی ترتیب (فاتحہ تا ناس) خود رسولِ اکرم ﷺ کے ارشاد و حکمِ وحی سے طے ہوئی اور تلاوت و نماز کے لیے اس پر تمام امت کا اجماع ہے۔
ترتیبِ نزولی: قرآن کے تاریخی فہم، احکام کی تدریجی تشریع اور گہری تحقیق و تدبر کے لیے امت کا عظیم ترین علمی اثاثہ ہے۔
[الکافی للکلینی: ج ۱، ص ۲۲۸، باب أنه لم يجمع القرآن كله إلا الأئمة]
[الکافی للکلینی: ج ۲، ص ۴۶۲، کتاب فضل القرآن]
محفوظ گاہ و خصوصیات: کتب خانہ روضۂ مقدسہ نجف اشرف (عراق) اور آستان قدس رضوی میں امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے دستِ مبارک سے منسوب مصاحف کے قدیم ترین نسخے خطِ کوفیِ اولیٰ (بغیر اعراب و نقط) میں محفوظ ہیں۔
تحریر پوستِ آہو (چمڑے کے باریک رقعے) پر سیاہ روشنائی اور قدیمی کوفی خط میں منقش ہے جو پہلی صدی ہجری کی کاتبِ وحی کی کتابت کا شاہکار ثبوت ہے۔
کوئی سورۃ نہیں ملی
برائے مہربانی درست ہجے لکھیں یا سورہ نمبر (1 تا 114) تلاش کریں۔