مرکزی مواد پر جائیں
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ اخلاقیات و تزکیۂ نفس سوال نمبر 87

چغلی (نمیمہ) کسے کہتے ہیں اور عذابِ قبر میں اس کا کیا تعلق ہے؟

What is Tale-bearing (Namimah) and what is its direct connection to the punishment of the grave?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
فساد، جھگڑا، نفرت اور بگاڑ پیدا کرنے کی نیت سے ایک شخص کی بات دوسرے شخص تک پہنچانا 'چغلی' (نمیمہ) کہلاتا ہے۔ یہ بدترین اخلاقی بیماری اور کبیرہ گناہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صریح الفاظ میں فرمایا: 'نمام (چغل خور) جنت میں داخل نہیں ہوگا'۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے کام پر نہیں (یعنی ان کے خیال میں آسان تھا مگر درحقیقت بڑا تھا)، ان میں سے ایک پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا پھرتا تھا۔
Tale-bearing (Namimah) involves transmitting words between individuals with malice to foster discord, hatred, and severance of relationships. The Prophet (ﷺ) declared that the tale-bearer will not enter Paradise. Passing by two graves, he affirmed that one of them was being punished specifically for Namimah.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ القلم (Al-Qalam) [68:10] سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ ۝ هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ ﴿10﴾
ترجمہ: اور آپ کسی ایسے شخص کا کہنا نہ مانیں جو بہت قسمیں کھانے والا، ذلیل ہو، طعنہ زن اور چغلیاں لے کر پھرنے والا ہو۔
English: And do not obey every worthless habitual swearer, [and] scorner, going about with malicious gossip.
📖 قرآن کریم — سورۃ الهمزة (Al-Humazah) [104:1] سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ ﴿1﴾
ترجمہ: بڑی ہلاکت ہے ہر پیٹھ پیچھے طعنہ زنی کرنے والے اور منہ پر عیب جوئی کرنے والے کے لیے۔
English: Woe to every scorner and mocker.
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 6056) Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت حذیفہ (رضي الله عنه)
قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: «لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ» (وفي رواية مسلم: نَمَّامٌ)
ترجمہ: انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: 'چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'The tale-bearer (Nammam/Qattat) will not enter Paradise.'
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 218) Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت ابن عباس (رضي الله عنهما)
مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ: «إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ»
ترجمہ: نبی کریم ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: 'ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی دشوار بات پر عذاب نہیں دیا جا رہا، ان میں سے ایک پیشاب کے چھینٹوں سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا پھرتا تھا۔'
English: The Prophet (ﷺ) passed by two graves and said: 'Both of them are being punished, not for something difficult to avoid; one didn't protect himself against urine splashes, and the other used to go about with malicious gossip (Namimah).'
⚖️ فقہی جزئیات:

اگر کوئی شخص آپ کے پاس آ کر کسی تیسرے کی برائی بتائے تو اس کی تصدیق نہ کریں، اسے ڈانٹیں اور اس بات کو آگے پھیلانے سے مکمل گریز کریں۔

💡 عملی نکتہ:

لوگوں کے درمیان پیار محبت جوڑیں نہ کہ ادھر کی بات ادھر لگا کر گھر اور تعلقات برباد کریں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: