Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ اخلاقیات و تزکیۂ نفس سوال نمبر 86

غیبت کی حقیقت کیا ہے اور قرآن و سنت میں اس کا کیا سنگین وبال بیان ہوا ہے؟

What constitutes Backbiting (Gheebah) and what is its severe prohibition in the Quran and Sunnah?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
کسی مسلمان بھائی کی پیٹھ پیچھے ایسی بات کہنا جو اس میں موجود ہو لیکن اسے ناگوار گزرے، غیبت کہلاتی ہے۔ اگر وہ بات اس میں موجود ہی نہ ہو تو وہ 'بہتان' بن جاتی ہے جو غیبت سے بھی بڑا گناہ ہے۔ قرآن مجید نے غیبت کی قباحت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے معراج کی رات ایسے لوگوں کا مشاہدہ فرمایا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے، پوچھنے پر جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو انسانوں کا گوشت کھاتے اور ان کی عزتوں پر حملے کرتے تھے (یعنی غیبت کرتے تھے)۔
Backbiting (Gheebah) means mentioning something about a fellow brother in his absence that he would dislike. If untrue, it becomes slander (Buhtan). The Quran equates backbiting to eating the flesh of one's dead brother. The Prophet (ﷺ) witnessed backbiters scratching their faces with copper claws on Miraj.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ الحجرات (Al-Hujuraat) [49:12] سورہ میں تلاوت سنیں ←
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ﴿12﴾
ترجمہ: اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بیشک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور تجسس نہ کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ سو تم اس سے نفرت کرتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو۔
English: O you who have believed, avoid much suspicion; indeed, some suspicion is sin. And do not spy or backbite each other. Would one of you like to eat the flesh of his dead brother? You would detest it. And fear Allah.
📗 حدیث شریف — صحیح مسلم (حدیث 2589) Sahih (صحيح مسلم)
راوی: حضرت ابوہریرہ (رضي الله عنه)
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ». قِيلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ: «إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟' انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: 'تیرا اپنے بھائی کا ایسا ذکر کرنا جو اسے ناگوار گزرے'۔ عرض کیا گیا: اگر وہ بات اس میں موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں؟ فرمایا: 'اگر وہ بات اس میں موجود ہو تو ہی تو نے اس کی غیبت کی، اور اگر وہ اس میں نہ ہو تو تو نے اس پر بہتان لگایا۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'Do you know what backbiting is?' They said: 'Allah and His Messenger know best.' He said: 'To mention about your brother that which he dislikes.' Someone said: 'What if what I said was true about him?' He said: 'If what you say is in him, you have backbitten him; and if it is not in him, you have slandered him.'
⚖️ فقہی جزئیات:

غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ توبہ کی جائے، اور اگر اس شخص کو پتہ چل چکا ہو تو اس سے معافی مانگی جائے، اور اگر پتہ نہ ہو اور بتانے سے فساد کا خطرہ ہو تو اس کے حق میں کثرت سے استغفار اور اس کی تعریف کی جائے جہاں برائی کی تھی۔

💡 عملی نکتہ:

کسی مجلس میں غیبت ہو رہی ہو تو خاموش رہنے کے بجائے اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کریں یا اس مجلس کو چھوڑ دیں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: