❓ حقوق و خاندانی زندگی
سوال نمبر 84
خلع کیا ہے اور ناپسندیدگی کی صورت میں عورت کو علیحدگی لینے کا کیا شرعی حق حاصل ہے؟
What is Khula and what rights does a woman have to seek divorce/separation under Islamic law?
🕌
عالم کا مستند جواب
قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
اسلام نے جس طرح مرد کو طلاق کا حق دیا ہے، اسی طرح عورت کو ناپسندیدگی، ظلم یا نباہ نہ ہونے کی صورت میں شوہر سے علیحدگی حاصل کرنے کا شرعی حق دیا ہے جسے 'خلع' کہا جاتا ہے۔ خلع میں عورت شوہر کو اس کا دیا ہوا مہر یا باہمی طے شدہ مال واپس کر کے نکاح ختم کرواتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں حضرت ثابت بن قیس کی اہلیہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا کہ مجھے ان کے دین یا اخلاق سے کوئی شکایت نہیں لیکن میں کفر فی الاسلام (ناشکری) سے ڈرتی ہوں کیونکہ ان کی صورت ناپسند ہے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تم ان کا دیا ہوا باغ واپس کر دو گی؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے ثابت بن قیس کو باغ لے کر انہیں جدا کرنے کا حکم دیا۔ خلع کے بعد عورت ایک حیض یا تین حیض کی عدت گزارتی ہے۔
Khula is the Islamic right of a wife to seek judicial dissolution of marriage or consensual separation due to incompatibility, harm, or hatred, typically by returning the Mahr (dowry). The Prophet (ﷺ) granted the first Khula to the wife of Thabit ibn Qays by having her return the garden given as dowry.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ البقرة (Al-Baqarah) [2:229]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ﴿229﴾
ترجمہ: پھر اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ عورت کچھ بدلہ (مہر وغیرہ) دے کر چھٹکارا حاصل کر لے، یہ اللہ کی حدود ہیں پس ان سے آگے نہ بڑھو۔
English: But if you fear that they will not keep [within] the limits of Allah, then there is no blame upon either of them concerning that by which she ransoms herself. These are the limits of Allah, so do not transgress them.
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 5273)
Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت ابن عباس (رضي الله عنهما)
أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلاَ دِينٍ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الإِسْلاَمِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً»
ترجمہ: حضرت ثابت بن قیس کی اہلیہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ان کے اخلاق یا دین میں کوئی عیب نظر نہیں آتا لیکن میں اسلام میں ناشکری پسند نہیں کرتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'کیا تم ان کا باغ واپس کر دو گی؟' انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے ثابت سے فرمایا: 'باغ قبول کرو اور اسے ایک طلاق دے دو۔'
English: The wife of Thabit ibn Qays came to the Prophet (ﷺ) and said: 'O Allah's Messenger, I do not blame him for any defect in his character or religion, but I dislike to behave in an un-Islamic manner.' The Prophet (ﷺ) said: 'Will you return his garden to him?' She said: 'Yes.' The Prophet (ﷺ) said: 'Accept the garden and divorce her once.'
⚖️ فقہی جزئیات:
اگر شوہر ظلم کر رہا ہو اور نفقہ نہ دے رہا ہو تو قاضی/عدالت بغیر مہر واپسی کے بھی تفریق (فسخ نکاح) کر سکتی ہے، کیونکہ عورت پر ظلم کے ازالے میں مہر لوٹانا لازم نہیں۔
💡 عملی نکتہ:
ازدواجی ناچاقی کی صورت میں عورت کو زبردستی قید رکھنے کے بجائے اسلامی اصولوں کے مطابق شائستگی سے آزاد کر دینا ہی تقویٰ ہے۔
🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: