Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ حقوق و خاندانی زندگی سوال نمبر 79

اولاد کی تربیت، ان کے درمیان عدل اور بیٹیوں کی پرورش کی شریعت میں کیا فضیلت ہے؟

What is the status of raising children, maintaining justice among them, and the virtue of raising daughters in Islam?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
اولاد والدین کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے جس کے بارے میں قیامت کے دن جوابدہی ہوگی۔ اولاد کے حقوق میں: اچھا اسلامی نام رکھنا، حلال رزق کھلانا، قرآن و سنت اور اخلاقیات کی تعلیم دینا، اور ان کے درمیان برابری و عدل قائم کرنا شامل ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بیٹی کی پیدائش کو عار سمجھا جاتا تھا، جبکہ اسلام نے بیٹیوں کی پرورش پر جنت اور جہنم کی آگ سے حفاظت کی بشارت دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں یا بہنیں ہوں اور وہ ان کی اچھی تربیت کرے، ان کے ساتھ احسان کرے اور عزت سے ان کی شادی کرائے تو وہ قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایسے ہوگا جیسے دو انگلیاں آپس میں جڑی ہوتی ہیں۔
Children are a divine trust upon parents. Islam mandates choosing righteous names, providing lawful sustenance, Islamic education, and justice among siblings. Islam elevated daughters: raising them with love, education, and dignity guarantees protection from Hellfire and companionship with the Prophet (ﷺ) in Paradise.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ التحريم (At-Tahrim) [66:6] سورہ میں تلاوت سنیں ←
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ ﴿6﴾
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جس پر سخت دل طاقتور فرشتے مقرر ہیں۔
English: O you who have believed, protect yourselves and your families from a Fire whose fuel is people and stones, over which are [appointed] angels, harsh and severe.
📗 حدیث شریف — صحیح مسلم (حدیث 2631) Sahih (صحيح مسلم)
راوی: حضرت انس بن مالک (رضي الله عنه)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ، وَضَمَّ أَصَابِعَهُ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جس نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک کفالت اور پرورش کی، وہ قیامت کے دن آئے گا تو میں اور وہ اس طرح ہوں گے' اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ملا کر دکھایا۔
English: The Prophet (ﷺ) said: 'Whoever brings up two girls until they reach adulthood, he and I will come on the Day of Resurrection like this,' and he joined his fingers.
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 2587) Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت نعمان بن بشیر (رضي الله عنهما)
أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم... فَقَالَ: «أَفَعَلْتَ هَذَا بِوَلَدِكَ كُلِّهِمْ؟» قَالَ: لاَ، قَالَ: «فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلاَدِكُمْ»
ترجمہ: ان کے والد انہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے (کہ میں نے اسے تحفہ دیا ہے آپ گواہ رہیں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو ایسا ہی تحفہ دیا ہے؟' انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: 'اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل و برابری کرو۔'
English: The Prophet (ﷺ) asked him: 'Have you done the same with all your children?' He said: 'No.' The Prophet (ﷺ) said: 'Fear Allah and be just between your children.'
⚖️ فقہی جزئیات:

اولاد کو تحفے تحائف (ہبہ) دینے میں تمام بیٹیوں اور بیٹوں کے درمیان برابری رکھنا جمہور فقہاء کے نزدیک واجب یا مستحب مؤکد ہے، بلاوجہ کسی ایک کو محروم کرنا گناہ ہے۔

💡 عملی نکتہ:

بچوں کو دینی تعلیم اور نماز کی عادت سات سال کی عمر سے ڈالیں اور ان کے ساتھ پیار اور شفقت کا تعلق قائم رکھیں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: