❓ حقوق و خاندانی زندگی
سوال نمبر 77
والدین کے حقوق کیا ہیں اور ان کی نافرمانی (عقوق الوالدین) کا کیا گناہ ہے؟
What are the rights of parents and what is the gravity of filial ingratitude (Uquq al-Walidayn)?
🕌
عالم کا مستند جواب
قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی توحید اور عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم فرمایا ہے۔ والدین کے سامنے عاجزی اور نرمی سے پیش آنا، ان کے سامنے اف تک نہ کہنا، جھڑکنا نہیں بلکہ نرم و باادب بات کرنا اور بڑھاپے میں ان کی دل و جان سے خدمت کرنا فرض ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے شرک کے بعد سب سے بڑا کبیرہ گناہ والدین کی نافرمانی کو قرار دیا اور فرمایا: 'اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے'۔ ماں کے حق کو خدمت میں تین گنا فوقیت دی گئی ہے کیونکہ اس نے حمل، ولادت اور دودھ پلانے کی بے پناہ تکلیفیں برداشت کیں۔
Immediately after Tauhid, Allah commands benevolence toward parents in the Quran. Speaking harshly or even saying 'uff' to them is forbidden. Filial disobedience is among the greatest major sins. Allah's pleasure lies in the father's pleasure, and Paradise lies at the mother's feet.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ الإسراء (Al-Israa) [17:23]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ﴿23﴾
ترجمہ: اور آپ کے رب نے فیصلہ فرما دیا کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں 'اف' تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان سے ادب و تعظیم والی بات کہنا۔
English: And your Lord has decreed that you not worship except Him, and to parents, good treatment. Whether one or both of them reach old age [while] with you, say not to them [so much as], 'uff,' and do not repel them but speak to them a noble word.
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 5971)
Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت ابوہریرہ (رضي الله عنه)
جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: «أُمُّكَ»، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ أُمُّكَ»، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ أُمُّكَ»، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ أَبُوكَ»
ترجمہ: ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں میں میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: 'تیری ماں'۔ عرض کیا: پھر کون؟ فرمایا: 'تیری ماں'۔ عرض کیا: پھر کون؟ فرمایا: 'تیری ماں'۔ عرض کیا: پھر کون؟ فرمایا: 'پھر تیرا باپ'۔
English: A man asked the Prophet (ﷺ): 'Who is most worthy of my good companionship?' He replied: 'Your mother.' The man asked: 'Then who?' He said: 'Your mother.' He asked: 'Then who?' He said: 'Your mother.' He asked: 'Then who?' He said: 'Then your father.'
📗 حدیث شریف — جامع الترمذی (حدیث 1899)
Hasan Sahih (حسن صحيح)
راوی: حضرت عبداللہ بن عمرو (رضي الله عنهما)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الْوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'رب کی رضا باپ کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے۔'
English: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The Lord's pleasure is in the parent's pleasure, and the Lord's anger is in the parent's anger.'
⚖️ فقہی جزئیات:
والدین کی اطاعت ہر جائز کام میں واجب ہے، لیکن اگر وہ اللہ کی نافرمانی، شرک یا کسی حرام کام کا حکم دیں تو 'لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ' کے اصول کے تحت گناہ کی بات نہیں مانی جائے گی، تاہم اس صورت میں بھی ان کے ساتھ دنیا میں بدتمیزی نہیں کی جائے گی بلکہ شائستگی سے معذرت کی جائے گی۔
💡 عملی نکتہ:
والدین کی وفات کے بعد ان کے لیے باقاعدگی سے مغفرت کی دعائیں کرنا، ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور ان کے نام سے صدقہ جاریہ کرنا ان کے حقوق میں شامل ہے۔
🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: