Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ معاملات و حلال و حرام سوال نمبر 66

تجارت میں دھوکہ دہی، عیب چھپانا اور جھوٹی قسموں کا کیا وبال ہے؟

What is the severe sin of fraud, concealing defects, and false swearing in business?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
اسلام سچی اور امانت دارانہ تجارت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور سچے تاجر کو قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ مقام دیتا ہے۔ اس کے برعکس مال بیچنے کے لیے اس کا عیب چھپانا، ناقص مال دکھا کر اچھا بتا دینا، یا جھوٹی قسمیں کھا کر سودا بیچنا سخت حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں'۔ اور فرمایا کہ جھوٹی قسم سے سودا تو وقتی طور پر بک جاتا ہے مگر کاروبار کی برکت ہمیشہ کے لیے مٹ جاتی ہے۔
Honest merchants will be with the Prophets and Martyrs on Judgment Day. Defrauding, concealing product defects, and swearing false oaths is strictly forbidden. The Prophet declared: 'Whoever cheats us is not of us.'
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ المطففين (Al-Mutaffifeen) [83:1] سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ ۝ الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ ۝ وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ ﴿1﴾
ترجمہ: ہلاکت ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے، جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیتے ہیں، اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا دیتے ہیں۔
English: Woe to those who give less [than due], who, when they take a measure from people, take in full. But if they give by measure or by weight to them, they cause loss.
📗 حدیث شریف — صحیح مسلم (حدیث 102) Sahih (صحيح مسلم)
راوی: حضرت ابوہریرہ (رضي الله عنه)
«أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلاً، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟ قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَفَلاَ جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ كَيْ يَرَاهُ النَّاسُ، مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ غلے کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے تو اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈالا، تو آپ کی انگلیاں تر ہو گئیں۔ آپ نے فرمایا: 'اے غلے کے مالک! یہ کیا ہے؟' اس نے کہا: یا رسول اللہ! بارش کا پانی لگ گیا تھا۔ آپ نے فرمایا: 'تو تم نے اسے اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکہ دیا وہ مجھ میں سے نہیں۔'
English: The Prophet (ﷺ) passed by a pile of grain and put his hand in it and found wetness. He asked the owner, who replied it was hit by rain. The Prophet said: 'Why didn't you put it on top so people could see? Whoever cheats is not of me.'
⚖️ فقہی جزئیات:

گاہک کو خریدے ہوئے مال میں عیب نکل آنے پر خیارِ عیب (سودا منسوخ کر کے رقم واپس لینے کا حق) شرعاً حاصل ہوتا ہے۔

💡 عملی نکتہ:

گاہک کو مال کی خامی پہلے خود کھول کر بتائیں، اللہ تعالیٰ آپ کے سودے میں برکت عطا فرمائے گا۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: