❓ معاملات و حلال و حرام
سوال نمبر 67
قرض لے کر نہ لوٹانے یا ٹال مٹول کرنے کی شریعت میں کیا سزا ہے؟
What is the gravity and severe penalty of defaulting on debts or delaying payment?
🕌
عالم کا مستند جواب
قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
قرض کی بروقت ادائیگی واجب ہے اور استطاعت کے باوجود ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شہید کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں سوائے قرض کے، اور مقروض میت کی روح اس وقت تک لٹکی رہتی ہے جب تک اس کا قرض ادا نہ کر دیا جائے۔ اسی طرح جو شخص قرض لیتے وقت نہ لوٹانے کی نیت رکھے وہ قیامت کے دن اللہ کے حضور چور کی حیثیت سے پیش ہوگا۔ نبی کریم ﷺ مقروض میت کا جنازہ اس وقت تک نہیں پڑھاتے تھے جب تک کوئی اس کا قرض اتارنے کا ضامن نہ بن جاتا۔
Defaulting on debt despite means is oppression. Even martyrdom forgives all sins except debt. The soul of a deceased debtor remains suspended until his debt is settled.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ النساء (An-Nisaa) [4:58]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا ﴿58﴾
ترجمہ: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ۔
English: Indeed, Allah commands you to render trusts to whom they are due.
📗 حدیث شریف — صحیح مسلم (حدیث 1886)
Sahih (صحيح مسلم)
راوی: حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رضي الله عنهما)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلاَّ الدَّيْنَ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'شہید کے تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں سوائے قرض کے۔'
English: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'All the sins of a martyr are forgiven except debt.'
⚖️ فقہی جزئیات:
اگر میت ترکہ چھوڑ جائے تو سب سے پہلے تجہیز و تکفین کے بعد اس کے ترکے سے اس کا کل قرض ادا کیا جائے گا، پھر وصیت اور بعد میں وراثت تقسیم ہوگی۔
💡 عملی نکتہ:
بغیر اشد مجبوری کے قرض لینے سے بچیں، اور اگر لیا ہو تو سب سے پہلے اسے ادا کرنے کی فکر کریں اور روزانہ قرض سے پناہ کی مسنون دعا پڑھیں۔
🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: