❓ زکوٰۃ و صدقات
سوال نمبر 38
زکوٰۃ کے مصارف (مستحقین) کون سے ہیں اور کن آٹھ مدات میں زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟
Who are the eight eligible recipients of Zakat according to the Quran (Surah At-Tawbah: 60)?
🕌
عالم کا مستند جواب
قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
سورۃ التوبہ کی آیت ۶۰ میں اللہ تعالیٰ نے خود زکوٰۃ کے آٹھ مصارف مقرر فرمائے ہیں: (۱) فقراء (جن کے پاس کچھ نہ ہو یا نصاب سے کم ہو)، (۲) مساکین (انتہائی مجبور جو اپنی روزی کے محتاج ہوں)، (۳) عاملینِ زکوٰۃ (زکوٰۃ جمع کرنے والے سرکاری عملے کی تنخواہ)، (۴) مؤلفۃ القلوب (نو مسلموں کی دلجوئی)، (۵) رقاب (غلاموں کو آزاد کرانا یا قیدی چھڑانا)، (۶) غارمین (قرض تلے دبے ہوئے لوگ جو قرض ادا نہ کر سکتے ہوں)، (۷) فی سبیل اللہ (دین کی سربلندی اور جہاد میں خرچ)، اور (۸) ابن السبیل (مسافر جو سفر میں تنگ دست ہو جائے خواہ وطن میں امیر ہو)۔
The eight categories in Surah At-Tawbah (9:60) are: The poor (Fuqara), the destitute (Masakeen), Zakat administrators, reconciling hearts, freeing captives, those in debt, in the cause of Allah, and stranded travelers.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ التوبة (At-Tawbah) [9:60]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿60﴾
ترجمہ: زکوٰۃ تو صرف فقیروں، مسکینوں، اور زکوٰۃ کے کام پر مامور ملازمین کے لیے ہے، اور جن کی دلجوئی مقصود ہو، اور گردنیں چھڑانے میں، اور قرض داروں کے لیے، اور اللہ کی راہ میں، اور مسافر کے لیے ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ فریضہ ہے، اور اللہ خوب علم والا حکمت والا ہے۔
English: Zakah expenditures are only for the poor and for the needy and for those employed to collect it and for bringing hearts together and for freeing captives and for those in debt and for the cause of Allah and for the [stranded] traveler - an obligation [imposed] by Allah. And Allah is Knowing and Wise.
📗 حدیث شریف — سنن ابوداؤد (حدیث 1630)
Hasan (حسن - سنن أبي داود)
راوی: حضرت زیاد بن حارث الصدائی (رضي الله عنه)
«قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلاَ غَيْرِهِ فِي الصَّدَقَاتِ حَتَّى حَكَمَ فِيهَا هُوَ، فَجَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ، فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کی تقسیم میں کسی نبی یا غیر نبی کے فیصلے پر قناعت نہیں فرمائی یہاں تک کہ خود اس کے آٹھ حصے مقرر فرما دیے، پس اگر تم ان آٹھ حصوں میں سے ہو تو میں تمہیں دے دوں گا۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'Allah was not pleased with the judgment of a Prophet or anyone else regarding Sadaqat until He Himself decreed them into eight portions. If you are among those portions, I will give you.'
⚖️ فقہی جزئیات:
زکوٰۃ میں 'تملیک' (مستحق کو مالک بنانا) شرط ہے، لہٰذا زکوٰۃ کے پیسے سے مسجد کی تعمیر، کنواں کھدوانا یا میت کا کفن دفن کرنا حنفیہ کے نزدیک جائز نہیں۔
💡 عملی نکتہ:
زکوٰۃ دیتے وقت اپنے قریبی غریب رشتہ داروں اور سفید پوش پڑوسیوں کو ترجیح دیں جنہیں دینے میں دوہرا ثواب ملتا ہے۔
🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: