Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ زکوٰۃ و صدقات سوال نمبر 37

زکوٰۃ کا نصاب کتنا ہے اور سونے، چاندی، کیش اور مالِ تجارت پر زکوٰۃ کی شرح کیا ہے؟

What is the threshold (Nisab) for Zakat on gold, silver, cash, and merchandise?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
زکوٰۃ فرض ہونے کا نصاب یہ ہے: سونے کا نصاب ساڑھے سات (۷.۵) تولے (تقریباً ۸۷.۴۸ گرام) ہے، اور چاندی کا نصاب باون تولے ساڑھے چھ ماشے (۵۲.۵ تولے یعنی تقریباً ۶۱۲.۳۶ گرام) ہے۔ اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو سونے کا نصاب دیکھا جائے گا، لیکن اگر سونا، چاندی، کیش اور مالِ تجارت مکس ہوں تو چاندی کے نصاب کی مالیت کے برابر رقم ہونے پر سال گزرنے کے بعد کل مالیت کا ڈھائی فیصد (۲.۵٪ یعنی چالیسواں حصہ) زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہوتا ہے۔
Nisab: 7.5 tolas (87.48g) of gold, or 52.5 tolas (612.36g) of silver. When holding cash, business inventory, or combined assets exceeding the silver Nisab for one lunar year, 2.5% (one-fortieth) is obligatory.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ البقرة (Al-Baqarah) [2:219] سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ ﴿219﴾
ترجمہ: اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ فرما دیجئے: جو تمہاری ضرورت سے زائد (بچا ہوا) ہو۔
English: And they ask you what they should spend. Say, 'The excess [beyond needs].'
📗 حدیث شریف — سنن ابوداؤد (حدیث 1573) Sahih (صحيح - سنن أبي داود)
راوی: حضرت علی بن ابی طالب (رضي الله عنه)
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «فَإِذَا كَانَتْ لَكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَلَيْسَ عَلَيْكَ شَيْءٌ فِي الذَّهَبِ حَتَّى يَكُونَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا، فَإِذَا كَانَتْ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا نِصْفُ دِينَارٍ»
ترجمہ: نبی کریم ﷺ سے مروی ہے فرمایا: 'جب تمہارے پاس دو سو درہم (چاندی) ہوں اور اس پر سال گزر جائے تو اس میں پانچ درہم (زکوٰۃ) ہے، اور سونے میں تم پر کچھ نہیں جب تک کہ تمہارے پاس بیس دینار نہ ہو جائیں، پس جب بیس دینار ہوں اور سال گزر جائے تو اس میں آدھا دینار (زکوٰۃ) ہے۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'When you possess two hundred dirhams and a year passes over them, five dirhams are due; and you owe nothing on gold until you possess twenty dinars. When you have twenty dinars and a year passes, half a dinar is due.'
⚖️ فقہی جزئیات:

ذاتی رہائش کا مکان، گھریلو استعمال کا سامان، ذاتی سواری اور پیشہ ورانہ اوزار زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہیں، ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔

💡 عملی نکتہ:

قمری سال (اسلامی مہینہ، مثلاً یکم رمضان) کو زکوٰۃ کی تاریخ مقرر کر لیں تاکہ ہر سال آسانی اور باقاعدگی سے حساب ہو سکے۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: