❓ معاملات و حلال
سوال نمبر 141
انسانی اعضاء عطیہ کرنے (Organ Donation) اور انتقالِ خون کا شرعی حکم کیا ہے؟
What is the Shariah ruling on human organ donation and blood transfusions?
🕌
عالم کا مستند جواب
قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
(۱) انتقالِ خون (بلڈ ڈونیشن): ضرورت مند مریض کی جان بچانے کے لیے خون عطیہ کرنا بالاتفاق جائز اور مستحب ہے، بشرطیکہ خون بیچا نہ جائے بلکہ فی سبیل اللہ دیا جائے۔ (۲) زندہ انسان کا عضو عطیہ کرنا: انسان کا اپنے کسی غیر متبادل اور بنیادی عضو (جیسے دل یا دونوں آنکھیں) کا عطیہ کرنا حرام ہے کیونکہ خودکشی ناجائز ہے۔ البتہ ایک گردے یا جگر کا حصہ عطیہ کرنا جائز ہے بشرطیکہ ڈونر کی جان کو خطرہ نہ ہو، مریض کی جان بچانا مقصود ہو، اور کوئی مالی خرید و فروخت نہ ہو۔ (۳) بعد از وفات اعضاء کا عطیہ: اس میں معاصر فقہاء کے دو آراء ہیں؛ بعض ممانعت کرتے ہیں احتراما للآدمی، جبکہ اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ اور بیشتر ائمہ نے سخت شرائط کے ساتھ اجازت دی ہے تاکہ زندہ انسانوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔ کسی بھی صورت میں اعضاء کی تجارت قطعی حرام ہے۔
Blood donation to save lives is unanimously permissible and rewarded. Donating a single kidney or liver lobe while alive is permitted if the donor's life is safe and without commercial sale. Post-mortem organ donation is permitted by major contemporary bodies to save lives, while organ commerce is strictly Haram.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ المائدة (Al-Ma'idah) [5:32]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ﴿32﴾
ترجمہ: اور جس نے کسی ایک جان کو بچایا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو بچا لیا۔
English: And whoever saves one - it is as if he had saved mankind entirely.
📗 حدیث شریف — صحیح مسلم (حدیث 2699)
Sahih (صحيح مسلم)
راوی: حضرت ابوہریرہ (رضي الله عنه)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ القِيَامَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ العَبْدِ مَا كَانَ العَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ»
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مومن کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی تکلیفوں میں سے تکلیف دور فرمائے گا، اور اللہ اس وقت تک بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔
English: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever relieves a believer of a distress from the distresses of this world, Allah will relieve him of a distress from the distresses of the Day of Resurrection... and Allah remains in aid of the servant as long as the servant is in aid of his brother.'
⚖️ فقہی جزئیات:
تولیدی اعضاء (جیسے خصیتین یا بیضہ دانی) کا عطیہ کرنا مطلقا حرام ہے کیونکہ اس سے اختلاطِ نسب واقع ہوتا ہے۔
💡 عملی نکتہ:
مریضوں کی جان بچانے کے لیے باقاعدگی سے بلڈ بینک کو خون عطیہ کریں اور اعضاء کے عطیے میں معتبر دار الافتاء کے فتوے کی رہنمائی لیں۔
🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: