Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ معاملات و حلال سوال نمبر 142

پوسٹ مارٹم (Post-mortem) اور انسانی لاش کے احترام کی کیا شرعی حدود ہیں؟

What is the Islamic ruling regarding post-mortem autopsies and the sanctity of the deceased?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
اسلام میں مردہ انسان کی حرمت زندہ انسان کی طرح واجب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'مردے کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے زندہ کی ہڈی توڑنا'۔ لہٰذا بلا ضرورت میت کی چیڑ پھاڑ کرنا ناجائز اور لاش کی بے حرمتی ہے۔ البتہ معاصر فقہاء کے نزدیک درج ذیل دو ناگزیر صورتوں میں ضرورت اور مصالحِ عامہ کے تحت پوسٹ مارٹم کی گنجائش ہے: (۱) فوجداری و قانونی تفتیش: قتل، زہر خوانی یا مشتبہ موت کے اسباب جاننے اور قاتل کو سزا دلوانے کے لیے، اور (۲) متعدی وبائی امراض کی تحقیق یا میڈیکل سائنس کے ایسے ناگزیر مطالعے کے لیے جس سے ہزاروں انسانوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔ ان صورتوں میں بھی صرف اتنی ہی چیڑ پھاڑ کی جائے جتنی از بس ضروری ہو، اور بعد میں لاش کو عزت سے سی کر دفنایا جائے۔
The sanctity of a human corpse is sacred in Islam; breaking a deceased's bone is equivalent to breaking it alive. Autopsies are prohibited in general, but permissible under strict necessity for forensic criminal investigation (homicide/poisoning) to serve justice, provided desecration is minimized and the body respectfully stitched and buried.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ الإسراء (Al-Isra) [17:70] سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ ﴿70﴾
ترجمہ: اور بے شک ہم نے بنی آدم کو بڑی عزت و تکریم عطا فرمائی ہے۔
English: And We have certainly honored the children of Adam.
📗 حدیث شریف — سنن ابوداؤد (حدیث 3207) Sahih (صحيح - سنن أبي داود وابن ماجه)
راوی: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رضي الله عنها)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «كَسْرُ عَظْمِ المَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا»
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردے کی ہڈی توڑنا زندہ کی ہڈی توڑنے کی مانند (گناہ میں) ہے۔
English: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Breaking a dead person's bone is like breaking it when he is alive.'
⚖️ فقہی جزئیات:

محض رسمی یا غیر ضروری طور پر تجسس کی تسکین کے لیے پوسٹ مارٹم کروانا شرعاً سخت ناجائز اور گناہ ہے۔

💡 عملی نکتہ:

میت کو غسل، کفن اور تدفین کے مراحل میں نرمی اور انتہائی احترام سے پیش آئیں اور کسی بھی بے حرمتی سے گریز کریں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: