Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ روزہ و رمضان سوال نمبر 116

مریض، مسافر، حاملہ اور انتہائی ضعیف شخص کے لیے روزے کی شرعی رخصت اور فدیہ کے کیا احکام ہیں؟

What are the rules regarding exemptions from fasting and paying Fidyah for the sick, travelers, and the elderly?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
شریعت نے آسانی فرمائی ہے: (۱) مسافر اور وقتی مریض (جس کی صحت یابی کی امید ہو) رمضان میں روزہ چھوڑ سکتے ہیں لیکن بعد میں ان دنوں کی قضا رکھنا فرض ہے، ان پر فدیہ نہیں ہے۔ (۲) حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت اگر اپنی یا بچے کی جان کو خطرہ محسوس کرے تو روزہ چھوڑ سکتی ہے اور بعد میں قضا رکھے گی۔ (۳) جو شخص انتہائی بوڑھا یا دائمی لاعلاج مریض ہو جس کے آئندہ تندرست ہونے کا کوئی امکان نہ ہو، وہ روزے کے بدلے فدیہ دے گا۔ ایک روزے کا فدیہ صدقۃ الفطر کے برابر (ایک وقت دو وقت کا کھانا یا رقم) ہے۔
A temporary patient and traveler may defer fasts and make them up later without Fidyah. Chronically ill individuals with no prospect of recovery and frail elderly people who cannot fast must pay Fidyah (one meal for a poor person or its monetary value) for each missed fast.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ البقرة (Al-Baqarah) [2:184] سورہ میں تلاوت سنیں ←
فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ﴿184﴾
ترجمہ: پس تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کر لے، اور جو لوگ اس کی طاقت نہ رکھتے ہوں (نہایت کمزور یا دائمی مریض ہوں) ان پر ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا فدیہ ہے۔
English: So whoever among you is ill or on a journey - then an equal number of other days. And upon those who can only fast with extreme difficulty is a ransom [as substitute] of feeding a poor person.
📗 حدیث شریف — جامع ترمذی (حدیث 715) Hasan (حسن الترمذي وأبو داود)
راوی: حضرت انس بن مالک الکعبی (رضي الله عنه)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ المُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلاَةِ، وَالصَّوْمَ عَنِ المُسَافِرِ، وَعَنِ المُرْضِعِ، وَعَنِ الحُبْلَى»
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز معاف کر دی (قصر کی اجازت دی)، اور مسافر، دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت سے (رمضان کا وقتی) روزہ اٹھا لیا۔
English: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Allah has relieved the traveler of half the prayer, and relieved the traveler, nursing mother, and pregnant woman of the fast.'
⚖️ فقہی جزئیات:

اگر دائمی مریض فدیہ دینے کے بعد معجزاتی طور پر تندرست ہو جائے تو اس پر واجب ہے کہ وہ فوت شدہ روزوں کی قضا بھی رکھے۔

💡 عملی نکتہ:

شدید بیماری میں ضد کر کے روزہ رکھ کر اپنی جان کو خطرے میں نہ ڈالیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی دی ہوئی رخصتوں پر عمل کرنے کو پسند فرماتا ہے۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: