Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ روزہ و رمضان سوال نمبر 115

صدقۃ الفطر (فطرانہ) کس پر واجب ہے، اس کی مقدار، قیمت اور ادا کرنے کا افضل وقت کیا ہے؟

Who is obligated to pay Sadaqat al-Fitr, what is its prescribed quantity and the optimal time for payment?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
صدقۃ الفطر ہر اس مسلمان پر واجب ہے جس کے پاس عید کے دن بنیادی ضروریات سے زائد نصاب کے برابر مال یا اسباب موجود ہوں۔ گھر کا سربراہ اپنی طرف سے اور اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے ادا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اس کی شرعی مقدار گندم کے حساب سے آدھا صاع (تقریباً 1.75 تا 2 کلو گرام) یا کھجور، جو اور کشمش کے حساب سے ایک صاع (تقریباً 3.5 کلو گرام) یا اس کی مساوی نقدی قیمت ہے۔ اس کی ادائیگی کا بہترین وقت عید کی نماز سے پہلے ہے، تاکہ مساکین اور غرباء بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
Sadaqat al-Fitr is an obligation upon every Muslim possessing wealth exceeding basic needs on Eid day. It equals roughly 2 kg of wheat or 3.5 kg of dates/barley, or its monetary equivalent. The Sunnah time of payment is before the Eid prayer so the poor may celebrate Eid with dignity.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ الأعلى (Al-A'la) [87:14] سورہ میں تلاوت سنیں ←
قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ ﴿١٤﴾ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ ﴿14﴾
ترجمہ: بے شک فلاح پا گیا وہ شخص جس نے پاکیزگی اختیار کی (فطرانہ دیا) اور اپنے رب کا نام یاد کر کے نماز (عید) پڑھی۔
English: He has certainly succeeded who purifies himself, and mentions the name of his Lord and prays.
📗 حدیث شریف — صحیح بخاری (حدیث 1503) Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت عبداللہ بن عمر (رضي الله عنهما)
فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى العَبْدِ وَالحُرِّ، وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى، وَالصَّغِيرِ وَالكَبِيرِ مِنَ المُسْلِمِينَ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلاَةِ
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے ہر آزاد، غلام، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے پر صدقۃ الفطر کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع فرض فرمایا، اور حکم دیا کہ لوگوں کے عیدگاہ نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے۔
English: The Messenger of Allah (ﷺ) enjoined the payment of Zakat al-Fitr as one Sa' of dates or barley on every Muslim slave, free man, male, female, young and old, and ordered that it be paid before people go out to the prayer.
⚖️ فقہی جزئیات:

اگر کسی نے عید کی نماز سے پہلے فطرانہ نہ دیا تو بھی بعد میں ادا کرنا واجب رہے گا، تاہم تاخیر کرنا مکروہ ہے۔ نقدی صورت میں رقم دینا فقہِ حنفی میں غریبوں کی حاجت روائی کے پیش نظر افضل مانا گیا ہے۔

💡 عملی نکتہ:

عید سے دو تین دن پہلے ہی اپنا فطرانہ نکال کر ضرورت مندوں کو پہنچا دیں تاکہ وہ عید کے دن کے لیے راشن اور ضروریات خرید سکیں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: