Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ عقائد و ایمان سوال نمبر 102

تقدیر پر ایمان اور انسان کے ارادے و اختیار میں کیا مطابقت ہے؟

How are Divine Destiny (Qadar) and human free will reconciled in Islam?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
اسلام کا عقیدہ تقدیر جبرِ مطلق (کہ انسان کٹھ پتلی ہے) اور تفویضِ مطلق (کہ خدا کا کوئی دخل نہیں) کے درمیان ایک متوازن شاہراہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے ازلی اور محیط علم کی بنیاد پر جانتا ہے کہ انسان اپنے آزاد ارادے سے کیا انتخاب کرے گا، اور اسی کو لوحِ محفوظ میں لکھ دیا۔ انسان کو اعمالِ خیر و شر کے انتخاب کا جزوی اختیار (کسب) دیا گیا ہے، اور اسی اختیار کی بنا پر وہ ثواب یا عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ تقدیر کو سستی اور گناہ کا عذر بنانا شرعاً باطل ہے۔
Belief in Divine Decree (Qadar) means Allah eternally knows through His infinite knowledge what each soul will choose freely. Humans possess real moral agency (free will) to choose between good and evil, and it is upon this chosen intent and action that accountability and judgment rest.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ البلد (Al-Balad) [90:10] سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ ﴿10﴾
ترجمہ: اور ہم نے اسے (خیر اور شر کے) دونوں راستے واضح دکھا دیے۔
English: And have shown him the two ways (of good and evil).
📗 حدیث شریف — صحیح بخاری (حدیث 4949) Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت علی بن ابی طالب (رضي الله عنه)
قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَنْزِلُهَا مِنَ الجَنَّةِ وَالنَّارِ». قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَتَّكِلُ؟ قَالَ: «لَا، اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ»
ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کا جنت یا جہنم کا ٹھکانا لکھ دیا گیا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے لکھے پر بھروسا کر کے عمل چھوڑ نہ دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: 'نہیں! عمل کرتے رہو، کیونکہ ہر شخص کے لیے اس راستے کو آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'There is none among you but has his place written for him in Paradise or the Fire.' They said: 'Should we not rely on what is written and give up acting?' He said: 'No, work, for everyone will find easy that for which he was created.'
⚖️ فقہی جزئیات:

اہل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ ہے کہ انسان اپنے افعال کا فاعل اور کاسب ہے، اور اللہ تعالیٰ ان تمام افعال کا خالق ہے۔

💡 عملی نکتہ:

مستقبل کی منصوبہ بندی میں تدبیر اور بھرپور محنت کریں، اور نتیجے کے وقت اللہ کی رضا اور تقدیر پر راضی رہیں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: