❓ عقائد و ایمان
سوال نمبر 103
قیامت کے دن شفاعتِ رسول ﷺ کا شرعی عقیدہ کیا ہے اور اس کے کیا ضوابط ہیں؟
What is the authentic Islamic belief concerning the Intercession (Shafa'ah) of Prophet Muhammad (ﷺ)?
🕌
عالم کا مستند جواب
قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت برحق ہے اور اہل السنۃ کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ شفاعت کی کئی اقسام ہیں: (۱) شفاعتِ کبریٰ (مقامِ محمود) جس سے محشر کی ہولناکیوں میں تمام اولین و آخرین کا حساب شروع ہوگا، (۲) مومنین کے درجات کی بلندی کے لیے شفاعت، اور (۳) کبیرہ گناہوں کے مرتکب اہل ایمان کے لیے مغفرت اور جہنم سے خلاصی کی شفاعت۔ شفاعت کے لیے دو شرائط قطعی ہیں: اللہ کا اذن اور شفاعت پانے والے کے ایمان سے اللہ کی رضا۔
The Intercession of Prophet Muhammad (ﷺ) on the Day of Judgment is an established tenet of Islamic creed. It includes the Grand Intercession (al-Maqam al-Mahmud) to commence the reckoning, raising ranks of believers, and pardoning sinners of his Ummah by Allah's permission and pleasure.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ الإسراء (Al-Isra) [17:79]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا ﴿79﴾
ترجمہ: امید ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کو مقامِ محمود (ایسا مقام جہاں سب آپ کی تعریف کریں گے) پر فائز فرمائے گا۔
English: It may be that your Lord will raise you to a praised station (al-Maqam al-Mahmud).
📗 حدیث شریف — جامع ترمذی (حدیث 2435)
Sahih (صحيح الترمذي وأبو داود)
راوی: حضرت انس بن مالک (رضي الله عنه)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «شَفَاعَتِي لأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي»
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہوگی۔
English: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'My intercession is for those among my Ummah who committed major sins.'
⚖️ فقہی جزئیات:
مشرک اور کافر کے لیے کوئی شفاعت نہیں ہوگی؛ شفاعت صرف اہل توحید کے لیے اللہ کے اذن سے کارگر ہوگی۔
💡 عملی نکتہ:
شفاعتِ نبوی کا حقدار بننے کے لیے اذان کے بعد مسنون دعا پڑھیں اور نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود شریف بھیجیں۔
🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: