Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
⚖️
عهد الإمام علي لمالك الأشتر
عہد نامہ مالک اشترؑ
فرمان / شق 2
📚 کتاب: کتاب: عہد نامہ مالک اشترؑ (اسلامی منشورِ حکمرانی و عدل)
📑 باب: شق 2: آزاد و باکردار عدلیہ اور ججوں کے انتخاب کے اصول...
👤 راوی: أمير المؤمنين علي بن أبي طالب (عليه السلام) إلى مالك بن الحارث الأشتر النخعي
✅ عہد نامہ مالک اشتر (شق 2)
«ثُمَّ اخْتَرْ لِلْحُكْمِ بَيْنَ النَّاسِ أَفْضَلَ رَعِيَّتِكَ فِي نَفْسِكَ، مِمَّنْ لَا تَضِيقُ بِهِ الْأُمُورُ، وَلَا تَمْحَكُهُ الْخُصُومُ، وَلَا يَتَمَادَى فِي الزَّلَّةِ، وَلَا يَحْصَرُ مِنَ الْفَيْءِ إِلَى الْحَقِّ إِذَا عَرَفَهُ، وَلَا تُشْرِفُ نَفْسُهُ عَلَى طَمَعٍ، وَلَا يَكْتَفِي بِأَدْنَى فَهْمٍ دُونَ أَقْصَاهُ؛ وَأَوْقَفَهُمْ فِي الشُّبُهَاتِ، وَآخَذَهُمْ بِالْحُجَجِ، وَأَقَلَّهُمْ تَبَرُّماً بِمُرَاجَعَةِ الْخَصْمِ، وَأَصْبَرَهُمْ عَلَى تَكَشُّفِ الْأُمُورِ، وَأَصْرَمَهُمْ عِنْدَ اتِّضَاحِ الْحُكْمِ، مِمَّنْ لَا يَزْدَهِيهِ إِطْرَاءٌ، وَلَا يَسْتَمِيلُهُ إِغْرَاءٌ... ثُمَّ أَكْثِرْ تَعَاهُدَ قَضَائِهِ، وَافْسَحْ لَهُ فِي الْبَذْلِ مَا يُزِيلُ عِلَّتَهُ، وَتَقِلُّ مَعَهُ حَاجَتُهُ إِلَى النَّاسِ.»
🇵🇰 اردو ترجمہ
«پھر لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کے لیے اپنی رعایا میں سے ایسے شخص کا انتخاب کرو جو تمہارے نزدیک سب سے زیادہ افضل و باکردار ہو۔ جس پر معاملات کی کثرت تنگی پیدا نہ کرے، جھگڑالو فریقین اسے غصے میں نہ لا سکیں، اگر اس سے کوئی لغزش ہو جائے تو اس پر ہٹ دھرمی نہ کرے، اور جب حق اس پر واضح ہو جائے تو حق کی طرف رجوع کرنے میں عار محسوس نہ کرے۔ اس کا نفس کسی لالچ کے آگے نہ جھکے، وہ سطحی فہم پر اکتفا کرنے کے بجائے معاملے کی تہہ تک پہنچنے والا ہو۔ شبہات میں سب سے زیادہ رکنے والا، دلیل کو سب سے مضبوطی سے تھامنے والا، بار بار فریقین کی بات سننے سے نہ اکتانے والا، اور جب حق روزِ روشن کی طرح کھل جائے تو بلا خوف و جھجک دو ٹوک فیصلہ سنانے والا ہو! اور ایسا ہو کہ نہ کوئی تعریف اسے بہکا سکے اور نہ ہی کوئی رشوت یا اثر و رسوخ اسے ڈگمگا سکے! اور اس کے فیصلوں کی خود باقاعدہ نگرانی رکھو، اور اسے اتنا معاوضہ دو جس سے اس کی تمام ضروریات باوقار انداز میں پوری ہوں اور وہ لوگوں کے مال کا محتاج نہ رہے۔»
🇬🇧 English Translation
He (AS) instructed: 'Then choose to preside over the judgment of people the most exemplary of your subjects in your estimation: one who is not overwhelmed by complex matters, nor angered by contentious litigants; who does not persist in error, nor hesitates to return to the truth when he recognises it; whose soul does not lean towards greed, and who does not settle for a superficial understanding rather than the profoundest investigation. Choose one who is most cautious in face of ambiguous doubts, most adherent to clear proofs, least impatient with repeated hearings, and most resolute when judgment becomes clear; one who is neither swayed by flattery nor seduced by temptation. Then inspect his judicial decrees with diligence, and grant him remuneration so ample that it removes his hardship and minimizes any dependence upon people.'
موضوعات:
🔮 اس فرمان / شق کے معانی و تشریح جاننا چاہتے ہیں؟