مرکزی مواد پر جائیں
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ فضائل، اذکار و سیرت سوال نمبر 99

صبح و شام کے مسنون اذکار اور حفاظتی دعاؤں کی کیا اہمیت ہے؟

What is the importance of the morning and evening Prophetic Adhkar and protection prayers?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
صبح اور شام کے مسنون اذکار مؤمن کے لیے ایک ناقابل تسخیر روحانی ڈھال ہیں جو اسے ہر قسم کے شیطانی وسوسوں، جنات، نظرِ بد، جادو اور ناگہانی آفات سے محفوظ رکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص صبح اور شام تین مرتبہ 'بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ' پڑھ لے تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اسی طرح شام کو تین مرتبہ 'أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ' پڑھنے سے رات بھر زہریلے جانور اور شرور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ آیت الکرسی اور معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) صبح و شام تین تین مرتبہ پڑھنا تمام برائیوں کے مقابلے میں انسان کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔
Morning and evening Adhkar serve as an impenetrable spiritual shield protecting the believer from demonic whispers, evil eye, black magic, and sudden calamities. Reciting Ayat al-Kursi, Surah al-Falaq, and Surah an-Nas along with the Prophetic supplications ('Bismillahilladhi la yadurru...') guarantees complete divine preservation throughout the day and night.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ غافر (Ghafir) [40:55] سورہ میں تلاوت سنیں ←
فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ ﴿55﴾
ترجمہ: پس آپ صبر کریں بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور اپنے گناہ کی بخشش مانگیں اور شام اور صبح اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں۔
English: So be patient. Indeed, the promise of Allah is truth. And ask forgiveness for your sin and exalt [Allah] with praise of your Lord in the evening and the morning.
📖 قرآن کریم — سورۃ ق (Qaaf) [50:39] سورہ میں تلاوت سنیں ←
فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ ﴿39﴾
ترجمہ: پس جو کچھ وہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے۔
English: So be patient over what they say and exalt [Allah] with praise of your Lord before the rising of the sun and before its setting.
📗 حدیث شریف — جامع الترمذی (حدیث 3388) Hasan Sahih (حسن صحيح)
راوی: حضرت عثمان بن عفان (رضي الله عنه)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ فِي صَبَاحِ كُلِّ يَوْمٍ وَمَسَاءِ كُلِّ لَيْلَةٍ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، لَمْ يَضُرَّهُ شَىْءٌ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'کوئی بھی بندہ جو ہر دن کی صبح اور ہر رات کی شام تین مرتبہ یہ کہے: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کی برکت سے زمین اور آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے)، تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'There is no servant who says in the morning of every day and the evening of every night: 'Bismillahilladhi la yadurru ma'asmihi shay'un fil-ardi wa la fis-sama'i wa huwas-Sami'ul-'Alim' three times, except that nothing can harm him.'
📗 حدیث شریف — صحیح مسلم (حدیث 2709) Sahih (صحيح مسلم)
راوی: حضرت خولہ بنت حکیم (رضي الله عنها)
سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: «مَنْ نَزَلَ مَنْزِلاً ثُمَّ قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَىْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: 'جو شخص کسی منزل پر اترے اور کہے: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ (میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ لیتا ہوں اس کی تمام مخلوق کے شر سے)، تو اسے اس جگہ سے کوچ کرنے تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'Whoever stops at a place and then says: 'A'udhu bi kalimatillahit-tammati min sharri ma khalaq', nothing will harm him until he departs from that place.'
⚖️ فقہی جزئیات:

صبح کے اذکار کا وقت فجر کی نماز کے بعد سے لے کر طلوعِ آفتاب یا زوال تک ہے، اور شام کے اذکار کا وقت عصر کی نماز کے بعد سے لے کر غروبِ آفتاب یا رات کے ابتدائی حصے تک ہے۔

💡 عملی نکتہ:

صبح و شام دس منٹ نکال کر مسنون دعاؤں کا چلت پھرت یا بیٹھ کر ورد کریں تاکہ اللہ کا حفظ و امان نصیب رہے۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: