Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ اخلاقیات و تزکیۂ نفس سوال نمبر 94

توکل علی اللہ کی صحیح تعریف کیا ہے اور کیا دنیاوی اسباب اختیار کرنا توکل کے منافی ہے؟

What is the true reality of Tawakkul (Trust in Allah) and does utilizing worldly means contradict reliance on Allah?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
توکل کا مطلب ہے اپنے تمام معاملات کا حتمی نتیجہ اور بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر رکھنا، اس یقین کے ساتھ کہ نفع و نقصان، زندگی اور موت کا تنہا مالک اللہ ہے۔ تاہم جائز دنیاوی اسباب و تدابیر کو اختیار کرنا توکل کے بالکل منافی نہیں بلکہ شریعت کا تقاضا اور انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔ جب ایک بدوی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: 'یا رسول اللہ! کیا میں اونٹنی کو باندھ کر توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ کر توکل کروں؟' تو آپ ﷺ نے تاریخی اصول ارشاد فرمایا: 'پہلے اسے باندھو، پھر اللہ پر توکل کرو'۔ بغیر اسباب کے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا توکل نہیں بلکہ سستی، عاجزی اور حماقت (تواکل) ہے۔ پرندے بھی صبح اپنے گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں، وہ گھونسلے میں نہیں بیٹھے رہتے۔
Tawakkul is placing absolute internal trust in Allah for all outcomes while actively taking lawful worldly means. When a Bedouin asked whether to tie his camel or leave it loose and trust Allah, the Prophet (ﷺ) instructed: 'Tie it and rely upon Allah.' Taking means is mandatory Sunnah; relying on the means rather than the Creator is false.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ الطلاق (At-Talaq) [65:3] سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ﴿3﴾
ترجمہ: اور وہ اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو، اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے، بیشک اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔
English: And will provide for him from where he does not expect. And whoever relies upon Allah - then He is sufficient for him. Indeed, Allah will accomplish His purpose.
📖 قرآن کریم — سورۃ آل عمران (Ali 'Imran) [3:159] سورہ میں تلاوت سنیں ←
فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ ﴿159﴾
ترجمہ: پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر توکل کریں، بیشک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔
English: Then when you have taken a decision, rely upon Allah. Indeed, Allah loves those who rely [upon Him].
📗 حدیث شریف — جامع الترمذی (حدیث 2517) Hasan (حسن)
راوی: حضرت انس بن مالک (رضي الله عنه)
قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْقِلُهَا وَأَتَوَكَّلُ أَوْ أُطْلِقُهَا وَأَتَوَكَّلُ؟ قَالَ: «اعْقِلْهَا وَتَوَكَّلْ»
ترجمہ: ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اسے (اونٹنی کو) باندھ کر توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ کر توکل کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: 'اسے باندھو، اور (پھر) توکل کرو۔'
English: A man asked: 'O Messenger of Allah, shall I tie it and rely upon Allah, or leave it loose and rely upon Him?' He (ﷺ) said: 'Tie it and rely upon Allah.'
📗 حدیث شریف — جامع الترمذی (حدیث 2344) Hasan Sahih (حسن صحيح)
راوی: حضرت عمر بن خطاب (رضي الله عنه)
سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: «لَوْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرُزِقْتُمْ كَمَا يُرْزَقُ الطَّيْرُ، تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: 'اگر تم اللہ پر ویسا توکل کرو جیسا توکل کرنے کا حق ہے تو تمہیں ایسے رزق دیا جائے جیسے پرندوں کو دیا جاتا ہے، وہ صبح بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ حال واپس لوٹتے ہیں۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'If you were to rely upon Allah with the required reliance, He would provide for you just as He provides for the birds: they go out in the morning with empty stomachs and return full in the evening.'
⚖️ فقہی جزئیات:

بیماری میں دوائی علاج کرنا، محنت سے کمانا اور خطرات سے بچاؤ کے انتظامات کرنا شریعت کا حکم ہے؛ اصل خرابی یہ ہے کہ انسان شفا یا رزق کو دوا یا نوکری سے سمجھے، نہ کہ اللہ سے۔

💡 عملی نکتہ:

کسی بھی کام میں پوری محنت اور تیاری کریں، اور اس کے بعد نتیجے کو مکمل طور پر اللہ کی رضا پر چھوڑ کر دل کو مطمئن رکھیں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: