مرکزی مواد پر جائیں
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ اخلاقیات و تزکیۂ نفس سوال نمبر 93

صبر اور شکر کی اسلام میں کیا فضیلت ہے اور ایمان کے دو حصے کیسے ہیں؟

What are the virtues of Patience (Sabr) and Gratitude (Shukr) as the twin halves of faith?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
علماء نے فرمایا کہ ایمان کے دو حصے ہیں: نصف صبر ہے اور نصف شکر ہے۔ مؤمن کی زندگی ان دونوں کے درمیان گھومتی ہے؛ تکلیف میں صبر اور نعمت میں شکر۔ صبر کی تین اقسام ہیں: (۱) نیکی پر جمے رہنے پر صبر (صبر علی الطاعة)، (۲) گناہوں سے رکنے پر صبر (صبر عن المعصیة)، اور (۳) مصائب و تکالیف پر صبر (صبر علی البلاء)۔ قرآن مجید میں صابرین کے ساتھ اللہ کی معیت اور بغیر حساب اجر کی بشارت دی گئی ہے۔ اسی طرح شکر کرنے والوں کے لیے نعمتوں میں اضافے کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مؤمن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر حال میں خیر ہے؛ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے تو اس کے لیے اجر بن جاتی ہے، اور اگر تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے خیر بن جاتی ہے۔
Scholars emphasize that faith consists of two halves: half patience (Sabr) and half gratitude (Shukr). Patience manifests in obedience, resisting sins, and enduring tribulations without complaint. Gratitude brings expansion of divine blessings. The believer's entire state is good: gratitude during ease and patience during adversity.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ الزمر (Az-Zumar) [39:10] سورہ میں تلاوت سنیں ←
إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿10﴾
ترجمہ: صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر بغیر کسی حساب کے بھرپور دیا جائے گا۔
English: Indeed, the patient will be given their reward without account.
📖 قرآن کریم — سورۃ إبراهيم (Ibrahim) [14:7] سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ ﴿7﴾
ترجمہ: اور جب تمہارے رب نے آگاہ فرما دیا کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو بیشک میرا عذاب بڑا سخت ہے۔
English: And [remember] when your Lord proclaimed, 'If you are grateful, I will surely increase you [in favor]; but if you deny, indeed, My punishment is severe.'
📗 حدیث شریف — صحیح مسلم (حدیث 2999) Sahih (صحيح مسلم)
راوی: حضرت صہیب رومی (رضي الله عنه)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «عَجَبًا لأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'مؤمن کا معاملہ بھی کتنا عجیب ہے! اس کے ہر معاملے میں خیر ہی خیر ہے، اور یہ بات مؤمن کے سوا کسی کے لیے نہیں۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچے تو شکر کرتا ہے تو وہ اس کے لیے بہتر ہوتی ہے، اور اگر تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتی ہے۔'
English: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'How wonderful is the case of a believer; there is good for him in everything and this applies only to a believer. If prosperity reaches him, he gives thanks to Allah and that is good for him; and if adversity befalls him, he shows patience and that is good for him.'
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 1302) Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت انس بن مالک (رضي الله عنه)
قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: «إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى»
ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'حقیقی صبر تو صدمے کے آغاز کے وقت ہوتا ہے۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'True patience is only at the first stroke of a calamity.'
⚖️ فقہی جزئیات:

کسی غم پر آنکھ سے آنسو بہنا یا دل کا رنجیدہ ہونا صبر کے منافی نہیں، بلکہ زبان سے واویلا کرنا، کپڑے پھاڑنا اور اللہ کے فیصلے پر شکوہ کرنا حرام ہے۔

💡 عملی نکتہ:

جب بھی مصیبت آئے تو فوراً 'إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا' پڑھیں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: