❓ اخلاقیات و تزکیۂ نفس
سوال نمبر 91
حسد کی تباہ کاری کیا ہے، اس سے کیسے بچا جائے اور غبطہ (رشک) کا کیا مفہوم ہے؟
What is the destructive nature of Envy (Hasad), how to guard against it, and what is permissible Jealousy/Aspiration (Ghibtah)?
🕌
عالم کا مستند جواب
قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
حسد یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے کے پاس اللہ کی دی ہوئی نعمت (دولت، علم، خوبصورتی، کامیابی) دیکھ کر جل بھن جائے اور یہ تمنا کرے کہ اس سے وہ نعمت چھن جائے۔ حسد درحقیقت اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر اعتراض اور دل کا روگ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ سوکھی لکڑیوں کو کھاتی ہے'۔ حسد سے بچنے کے لیے سورۃ الفلق کی تلاوت کا حکم دیا گیا ہے اور کسی کی نعمت دیکھ کر 'مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ' یا 'بَارَكَ اللَّهُ لَكَ' کہنا چاہیے۔ حسد کے برعکس 'غبطہ' (رشک) جائز ہے، یعنی یہ خواہش کرنا کہ مجھے بھی ایسی نعمت ملے بغیر اس تمنا کے کہ دوسرے سے چھن جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے دو شخصوں پر رشک کو جائز قرار دیا: قرآنی علم پر عمل کرنے والا اور حلال مال اللہ کی راہ میں لٹانے والا۔
Envy (Hasad) is wishing for the removal of a blessing from another person, which constitutes rebellion against divine decree. The Prophet (ﷺ) warned that envy consumes good deeds just as fire consumes wood. In contrast, Ghibtah (admirable emulation) is permissible: desiring similar blessings without wishing ill for others.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ النساء (An-Nisaa) [4:54]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُم مُّلْكًا عَظِيمًا ﴿54﴾
ترجمہ: یا وہ لوگوں سے اس پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمایا؟ پس تحقیق ہم نے ابراہیم کی آل کو کتاب اور حکمت دی اور انہیں عظیم سلطنت عطا فرمائی۔
English: Or do they envy people for what Allah has given them of His bounty? But We had already given the family of Abraham the Scripture and wisdom and conferred upon them a great kingdom.
📖 قرآن کریم — سورۃ الفلق (Al-Falaq) [113:5]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ﴿5﴾
ترجمہ: اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
English: And from the evil of an envier when he envies.
📗 حدیث شریف — سنن ابی داود (حدیث 4903)
Hasan (حسن)
راوی: حضرت ابوہریرہ (رضي الله عنه)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ، فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھاتی ہے۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'Beware of envy, for envy consumes good deeds just as fire consumes firewood.'
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 73)
Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت عبداللہ بن مسعود (رضي الله عنه)
قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: «لاَ حَسَدَ إِلاَّ فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فَهْوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا»
ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'رشک صرف دو باتوں میں جائز ہے: ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے حق کی راہ میں خرچ کرنے پر لگائے، اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت (علم) دی اور وہ اس کے مطابق فیصلے کرے اور لوگوں کو سکھائے۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'There is no envy except in two cases: A person whom Allah has given wealth and he spends it righteously, and a person whom Allah has given wisdom and he acts upon it and teaches it.'
⚖️ فقہی جزئیات:
نظرِ بد برحق ہے اور حسد کرنے والے کی نگاہ سے نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کی غیر ضروری نمائش اور شو آف سے بچنا چاہیے۔
💡 عملی نکتہ:
جب کسی کے پاس کوئی اچھی چیز دیکھیں تو دل سے اس کے لیے برکت کی دعا کریں، حسد کی آگ خود بخود ٹھنڈی ہو جائے گی۔
🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: