Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ عقائد و ایمان سوال نمبر 8

سچی توبہ (توبۃ النصوح) کی شرائط کیا ہیں اور کیا گناہ کے بعد توبہ قبول ہوتی ہے؟

What are the conditions for sincere repentance (Tawbah Nasooh) in Islam?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
توبۃ النصوح کی بنیادی طور پر تین شرائط ہیں (اگر گناہ کا تعلق اللہ کے حق سے ہو): (۱) گناہ کو فوراً ترک کر دینا، (۲) کیے پر دل سے ندامت و شرمندگی، اور (۳) آئندہ کبھی نہ کرنے کا پختہ عزم۔ لیکن اگر گناہ کا تعلق کسی بندے کے حق سے ہو (جیسے کسی کا مال لوٹنا یا غیبت کرنا) تو چوتھی شرط یہ ہے کہ حق دار کا حق واپس کرے یا اس سے معافی مانگے۔ موت کی غرغراہٹ اور مغرب سے سورج طلوع ہونے سے پہلے تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
Conditions for sincere repentance are: Ceasing the sin immediately, feeling deep remorse, resolving never to return to it, and restoring any violated rights of other people.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ الزمر (Az-Zumar) [39:53] سورہ میں تلاوت سنیں ←
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴿53﴾
ترجمہ: آپ فرما دیجئے: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو، بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہ یقیناً بڑا بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔
English: Say, 'O My servants who have transgressed against themselves, do not despair of the mercy of Allah. Indeed, Allah forgives all sins. Indeed, it is He who is the Forgiving, the Merciful.'
📗 حدیث شریف — صحیح مسلم (حدیث 2749) Sahih (صحيح مسلم)
راوی: حضرت ابوہریرہ (رضي الله عنه)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جس نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کر لی، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لے گا۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'Whoever repents before the sun rises from the west, Allah accepts his repentance.'
⚖️ فقہی جزئیات:

حقوق العباد (بندوں کے حقوق) محض استغفار سے معاف نہیں ہوتے جب تک کہ صاحبِ حق کو اس کا حق ادا نہ کر دیا جائے یا وہ خود راضی ہو کر معاف نہ کر دے۔

💡 عملی نکتہ:

گناہ سرزد ہوتے ہی فوراً وضو کر کے دو رکعت صلاۃ التوبہ پڑھیں اور اخلاص سے استغفار کریں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: