❓ اخلاقیات و تزکیۂ نفس
سوال نمبر 89
غصے پر قابو پانے کا نبوی طریقہ کیا ہے اور عفو و درگزر کی کیا فضیلت ہے؟
What is the Prophetic method of controlling anger and the virtue of forgiveness (Afw)?
🕌
عالم کا مستند جواب
قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
غصہ شیطان کی طرف سے ایک چنگاری ہے جو انسان کی عقل، دین اور رشتوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طاقتور وہ پہلوان نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے، بلکہ حقیقی طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ غصہ آئے تو اس کا نبوی علاج یہ ہے: (۱) 'أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ' پڑھنا، (۲) خاموش ہو جانا، (۳) کھڑا ہو تو بیٹھ جانا اور بیٹھا ہو تو لیٹ جانا، (۴) ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا کیونکہ غصہ آگ ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے۔ قرآن نے غصہ پینے والوں اور لوگوں کو معاف کرنے والوں کو محسنین اور اللہ کے محبوب بندے قرار دیا ہے۔
True strength lies not in physical wrestling, but in controlling oneself during anger. Prophetic remedies for anger include: Seeking refuge in Allah from Satan (Ta'awwudh), remaining silent, changing posture (sitting down or lying down), and performing Wudu with cold water. Restraining anger and pardoning people earn divine love and Paradise.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ آل عمران (Ali 'Imran) [3:134]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴿134﴾
ترجمہ: وہ لوگ جو خوشحالی اور تنگدستی دونوں حالتوں میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔
English: Who spend [in the cause of Allah] during ease and hardship and who restrain anger and who pardon the people - and Allah loves the doers of good.
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 6114)
Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت ابوہریرہ (رضي الله عنه)
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں پچھاڑ دے، بلکہ اصل طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔'
English: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The strong is not the one who overcomes the people by his strength, but the strong is the one who controls himself while in anger.'
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 6116)
Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت ابوہریرہ (رضي الله عنه)
أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَوْصِنِي. قَالَ: «لاَ تَغْضَبْ». فَرَدَّدَ مِرَارًا، قَالَ: «لاَ تَغْضَبْ»
ترجمہ: ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے نصیحت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'غصہ مت کرو'۔ اس نے بار بار سوال دہرایا، آپ ﷺ نے ہر بار یہی فرمایا: 'غصہ مت کرو'۔
English: A man said to the Prophet (ﷺ): 'Advise me.' The Prophet (ﷺ) said: 'Do not get angry.' The man asked repeatedly and the Prophet (ﷺ) said each time: 'Do not get angry.'
⚖️ فقہی جزئیات:
غصے کی حالت میں کیے گئے فیصلے، طلاق اور قسمیں اکثر حسرت اور ندامت کا باعث بنتی ہیں، اس لیے غصے میں کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے باز رہنا چاہیے۔
💡 عملی نکتہ:
جب غصہ آئے تو فوراً پانی پی لیں اور چند سیکنڈ کے لیے آنکھیں بند کر کے اعوذ باللہ پڑھ کر خاموش ہو جائیں۔
🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: