Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ حقوق و خاندانی زندگی سوال نمبر 83

طلاق کے مسنون و جائز طریقہ کار کیا ہیں، اور اکٹھی تین طلاق دینے کا کیا شرعی حکم ہے؟

What are the Sunnah procedures for divorce (Talaq) and what is the Islamic ruling on issuing three divorces at once?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
شریعتِ اسلامیہ میں نکاح کو دائمی رشتہ قرار دیا گیا ہے اور طلاق کو آخری مجبوری کا راستہ رکھا گیا ہے جب تمام تر مصالحت اور صلح کی کوششیں ناکام ہو جائیں۔ طلاق کا مسنون طریقہ 'طلاقِ احسن' یہ ہے کہ شوہر حالتِ طہر (پاکی کے ایام) میں، جس میں ازدواجی تعلق قائم نہ کیا ہو، صرف ایک طلاق رجعی دے اور عورت کو عدت (تین حیض) گزارنے دے۔ عدت کے دوران شوہر بغیر نئے نکاح کے رجوع کر سکتا ہے۔ اکٹھی تین طلاقیں دینا (طلاقِ بدعت) سخت گناہ اور شریعت کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ جمہور ائمہ اربعہ کے نزدیک اکٹھی تین طلاق دینے سے تینوں واقع ہو جاتی ہیں اور مغلظہ ہو کر عورت جدا ہو جاتی ہے، جبکہ بعض صحابہ، امام ابن تیمیہ اور موجودہ کئی اسلامی ممالک و فقہاء کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی رجعی طلاق شمار ہوتی ہے۔
Divorce is a last resort permitted only after reconciliation attempts fail. The Sunnah divorce (Talaq Ahsan) requires uttering a single revocable divorce during a period of purity without intimacy, followed by the waiting period (Iddah) where reconciliation is possible. Issuing three divorces in a single sitting is sinful innovation (Talaq al-Bid'ah).
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ البقرة (Al-Baqarah) [2:229] سورہ میں تلاوت سنیں ←
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا ﴿229﴾
ترجمہ: طلاق (رجعی) دو مرتبہ ہے، پھر یا تو اچھے طریقے سے روک لینا ہے یا خوش اسلوبی سے رخصت کر دینا ہے، اور تمہارے لیے حلال نہیں کہ جو کچھ تم نے انہیں دیا ہو اس میں سے کچھ واپس لو۔
English: Divorce is twice. Then, either keep [her] in an acceptable manner or release [her] with good treatment. And it is not lawful for you to take anything of what you have given them.
📖 قرآن کریم — سورۃ الطلاق (At-Talaq) [65:1] سورہ میں تلاوت سنیں ←
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ ﴿1﴾
ترجمہ: اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت پر طلاق دو اور عدت کو شمار کرو، اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے، انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔
English: O Prophet, when you [Muslims] divorce women, divorce them for [the commencement of] their waiting period and keep count of the waiting period, and fear Allah, your Lord. Do not turn them out of their [husbands'] houses, nor should they [themselves] leave.
📗 حدیث شریف — سنن النسائی (حدیث 3401) Sahih (صحيح النسائي)
راوی: حضرت محمود بن لبید (رضي الله عنه)
أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا، فَقَامَ غَضْبَانَ ثُمَّ قَالَ: «أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کو ایک ایسے شخص کے بارے میں بتایا گیا جس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دیں، تو آپ ﷺ انتہائی غضبناک ہو کر کھڑے ہوئے اور فرمایا: 'کیا کتاب اللہ کے ساتھ کھیل کھیلا جا رہا ہے جبکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں؟'
English: The Messenger of Allah (ﷺ) was informed about a man who divorced his wife by giving three divorces together. He stood up in anger and said: 'Is the Book of Allah being played with while I am still among you?'
📗 حدیث شریف — صحیح مسلم (حدیث 1472) Sahih (صحيح مسلم)
راوی: حضرت ابن عباس (رضي الله عنهما)
قَالَ: كَانَ الطَّلاَقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ طَلاَقُ الثَّلاَثِ وَاحِدَةً، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ قَدْ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ. فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ
ترجمہ: حضرت ابن عباس نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں اکٹھی تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا: لوگوں نے ایسے کام میں جلدی کرنا شروع کر دی جس میں انہیں مہلت تھی، اگر ہم اسے ان پر نافذ کر دیں تو مناسب ہوگا، چنانچہ انہوں نے اسے نافذ فرما دیا۔
English: Ibn Abbas reported that three divorces given together were treated as one during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ), Abu Bakr, and the first two years of the Caliphate of Umar. Then Umar said: 'People have become hasty in a matter in which they had patience, so if we enforce it upon them...' and he enforced it.
⚖️ فقہی جزئیات:

غصے میں اگر عقل زائل نہ ہوئی ہو تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، البتہ شدید پاگل پن اور بے خودی کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔ طلاق کے مسائل میں کسی مستند دار الافتاء سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

💡 عملی نکتہ:

طلاق کوئی مذاق یا دھمکی کا ہتھیار نہیں، اختلاف کی صورت میں بڑوں کو بٹھا کر صلح کروائیں اور زبان کو قابو میں رکھیں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: