Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ حقوق و خاندانی زندگی سوال نمبر 81

اسلام میں پڑوسی کے کیا حقوق ہیں اور ہمسائے کو تکلیف پہنچانے کا کیا گناہ ہے؟

What are the rights of the neighbor in Islam and the sin of harming one's neighbor?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
اسلام میں پڑوسی کے حقوق کو اس قدر عظیم مقام دیا گیا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ کو پڑوسی کے بارے میں اس کثرت سے وصیت فرمائی کہ آپ ﷺ کو گمان ہوا کہ شاید وہ پڑوسی کو وراثت میں وارث بنا دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ قسم کھا کر فرمایا کہ وہ شخص مومن نہیں جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں اور ایذا رسانی سے محفوظ نہ ہو۔ پڑوسی کے حقوق میں: اس کے دکھ درد میں شریک ہونا، بیماری میں عیادت کرنا، کھانے پینے میں اس کا خیال رکھنا، اس کی عیب پوشی کرنا، اور شور شرابے یا کوڑا کرکٹ پھینک کر اسے کسی قسم کی اذیت نہ دینا شامل ہے۔ پڑوسی تین طرح کے ہیں: رشتہ دار مسلم پڑوسی (۳ حقوق)، غیر رشتہ دار مسلم پڑوسی (۲ حقوق)، اور غیر مسلم پڑوسی (۱ حق: پڑوس کا حق)۔
Jibreel emphasized neighborly rights so repeatedly that the Prophet (ﷺ) thought neighbors would be granted inheritance rights. A person whose neighbor is not safe from his harm is declared to lack true faith. Rights include sharing food, visiting during illness, keeping privacy, and avoiding noise or inconvenience, whether Muslim or non-Muslim.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ النساء (An-Nisaa) [4:36] سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ ﴿36﴾
ترجمہ: اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور والدین کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں، یتیموں، محتاجوں، قریبی پڑوسی، اجنبی پڑوسی اور پہلو کے ساتھی کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔
English: Worship Allah and associate nothing with Him, and to parents do good, and to relatives, orphans, the needy, the near neighbor, the neighbor farther away, and the companion at your side.
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 6014) Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت عائشہ اور ابن عمر (رضي الله عنهم)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جبرائیل مجھے پڑوسی کے بارے میں مسلسل وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ اسے عنقریب وارث بنا دیں گے۔'
English: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Jibreel continued to enjoin upon me good treatment of the neighbor, until I thought he would include him among the heirs.'
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 6016) Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت ابوہریرہ (رضي الله عنه)
أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «وَاللَّهِ لاَ يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لاَ يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لاَ يُؤْمِنُ». قِيلَ: وَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الَّذِي لاَ يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ»
ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'اللہ کی قسم وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں!' پوچھا گیا: کون یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: 'وہ شخص جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں اور اذیتوں سے محفوظ نہ ہو۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'By Allah, he does not believe! By Allah, he does not believe! By Allah, he does not believe!' It was said: 'Who, O Messenger of Allah?' He said: 'The one whose neighbor is not safe from his harm.'
⚖️ فقہی جزئیات:

پڑوسی کا دائرہ روایات کے مطابق ہر سمت چالیس چالیس گھروں تک محیط ہے، جن کی حفاظت اور رعایت کا شریعت میں حکم ہے۔

💡 عملی نکتہ:

گھر میں سالن یا کھانا پکائیں تو پڑوسی کا حصہ نکالیں اور پارکنگ یا راستے میں رکاوٹ ڈال کر ہمسایوں کو تنگ نہ کریں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: