مرکزی مواد پر جائیں
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ حقوق و خاندانی زندگی سوال نمبر 80

صلہ رحمی (رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک) کی کیا فضیلت ہے اور قطع رحمی کا کیا وبال ہے؟

What is the virtue of maintaining family ties (Silat ar-Rahim) and the sin of severing kinship (Qat' ar-Rahim)?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
صلہ رحمی یعنی خونی اور نسبی رشتہ داروں کے ساتھ بھلائی، مالی مدد، خیر خواہی اور حسنِ سلوک کرنا دینِ اسلام کا بنیادی تقاضا ہے۔ قرآن مجید میں رحم (رشتہ داری) کو کاٹنے والوں پر اللہ کی لعنت کا ذکر آیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی اور اس کی عمر میں برکت و زیادتی کی جائے تو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔ اور آپ ﷺ نے صراحت فرمائی کہ قطع رحمی (رشتہ داری توڑنے) والا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ سچا صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلے میں سلوک کرے، بلکہ وہ ہے کہ جب رشتے دار قطع تعلق کریں تو وہ تعلق جوڑے۔
Maintaining ties of kinship (Silat ar-Rahim) is a core Islamic imperative that expands sustenance and blesses lifespan. Severing family ties (Qat' ar-Rahim) incurs divine curse, and the one who severs kinship will not enter Paradise. True kinship is maintained not by reciprocation, but by connecting with those who cut you off.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ محمد (Muhammad) [47:22] سورہ میں تلاوت سنیں ←
فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ ۝ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُمْ ﴿22﴾
ترجمہ: پس کیا تم سے یہ توقع کی جائے کہ اگر تم حاکم بن جاؤ تو زمین میں فساد برپا کرو گے اور اپنے خونی رشتوں کو کاٹ ڈالو گے؟ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرمائی پس انہیں بہرا کر دیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا۔
English: So would you perhaps, if you turned away, cause corruption on earth and sever your [ties of] relationship? Those are the ones that Allah has cursed, so He deafened them and blinded their vision.
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 5986) Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت انس بن مالک (رضي الله عنه)
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جسے یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں وسعت کی جائے اور اس کی عمر دراز (یا آثار میں برکت) کی جائے، تو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'Whoever loves that his sustenance be expanded and his lifespan prolonged, let him maintain the ties of kinship.'
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 5984) Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت جبیر بن مطعم (رضي الله عنه)
أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: «لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ» قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي قَاطِعَ رَحِمٍ
ترجمہ: انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: 'قطع کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا'، سفیان نے کہا یعنی رشتہ داری کاٹنے والا۔
English: The Prophet (ﷺ) said: 'The one who severs (ties of kinship) will not enter Paradise.'
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 5991) Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت عبداللہ بن عمرو (رضي الله عنهما)
قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: «لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ، وَلَكِنِ الْوَاصِلُ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا»
ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'برابری کا بدلہ چکانے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں، بلکہ حقیقی صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'The one who maintains a relationship in response to good treatment is not a maintainer of kinship; the true maintainer is one who connects with those who sever ties with him.'
⚖️ فقہی جزئیات:

صلہ رحمی کا کم از کم درجہ سلام دعا اور خیریت دریافت کرنا ہے، اور اعلیٰ درجہ مالی تنگی میں مدد، عیادت اور ظلم سہہ کر بھی معاف کر کے تعلق جوڑے رکھنا ہے۔

💡 عملی نکتہ:

اگر رشتہ دار ناراض ہوں یا قطع تعلقی کریں، تو انا قربان کر کے خود پہل کریں اور اللہ کی رضا کے لیے تعلقات بحال رکھیں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: