❓ معاملات و حلال و حرام
سوال نمبر 75
قسم کے احکام، قسم توڑنے کا کفارہ اور غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت کیا ہے؟
What are the rulings on Oaths (Qasam), expiation for broken oaths, and swearing by other than Allah?
🕌
عالم کا مستند جواب
قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
قسم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاک نام یا اس کی صفات کی کھانا جائز ہے، ماں باپ، بچوں، کعبہ، قرآن یا سر کی قسم کھانا شرکِ اصغر اور ممنوع ہے۔ اگر کوئی شخص مستقبل کے کسی جائز کام کی پختہ قسم کھائے اور پھر اسے توڑ دے تو اس پر 'کفارۂ یمین' فرض ہو جاتا ہے، جو کہ سورۃ المائدہ آیت ۸۹ کے مطابق: (۱) دس مسکینوں کو دو وقت اوسط درجے کا کھانا کھلانا، یا (۲) دس مسکینوں کو کپڑے پہنانا، یا (۳) ایک غلام آزاد کرنا ہے۔ اگر ان میں سے کسی کی استطاعت نہ ہو تو مسلسل تین دن کے روزے رکھنا ہے۔
Oaths may only be sworn by Allah. Swearing by creation is forbidden. Expiation (Kaffarah) for a broken oath: Feeding 10 needy people, or clothing them, or freeing a slave; if unable, fasting 3 consecutive days.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ المائدة (Al-Maaida) [5:89]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ ۖ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ﴿89﴾
ترجمہ: اللہ تمہاری بے ارادہ (لغو) قسموں پر تمہاری گرفت نہیں فرماتا لیکن وہ ان قسموں پر مؤاخذہ فرماتا ہے جنہیں تم پختہ کرو، پس اس کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا انہیں کپڑے پہنانا یا ایک گردن آزاد کرنا ہے، پس جو نہ پائے وہ تین دن کے روزے رکھے۔
English: Allah will not impose blame for what is meaningless in your oaths, but He will impose blame for what [binding] oaths you swear. Its expiation is the feeding of ten needy people from the average of that which you feed your [own] families or clothing them or the freeing of a slave. But whoever cannot find [or afford it] - then a fast of three days.
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 6646)
Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت عبداللہ بن عمر (رضي الله عنهما)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «أَلاَ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'خبردار! بیشک اللہ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسمیں کھانے سے منع فرماتا ہے، پس جس نے قسم کھانی ہو وہ صرف اللہ کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'Behold! Allah forbids you to swear by your fathers. Whoever has to take an oath, let him swear by Allah or keep silent.'
⚖️ فقہی جزئیات:
اگر کسی گناہ یا نیکی توڑنے کی قسم کھا لی جائے (مثلاً رشتہ دار سے تعلق توڑنے کی)، تو اس قسم کو توڑنا واجب ہے اور اس کا کفارہ دینا لازم ہے۔
💡 عملی نکتہ:
بات بات پر تکیہ کلام کے طور پر قسم کھانے سے پرہیز کریں تاکہ اللہ کے نام کا تقدس پامال نہ ہو۔
🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: