Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ معاملات و حلال و حرام سوال نمبر 71

اسلامی قانونِ وراثت کی اہمیت اور بیٹیوں یا وارثوں کو وراثت سے محروم کرنے کی سزا کیا ہے؟

What is the importance of Islamic inheritance laws and the severe sin of depriving daughters/heirs?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
اسلام کا نظامِ وراثت اللہ تعالیٰ کی براہِ راست طے کردہ حدود ہیں۔ قرآنِ مجید (سورۃ النساء آیات ۱۱ تا ۱۴) میں ہر وارث کا حصہ (والدین، شوہر، بیوی، بیٹے، اور بیٹیوں) خود اللہ نے متعین فرمایا ہے۔ اس کی تقسیم انسان کی مرضی پر نہیں ہے۔ کسی وارث بالخصوص بیٹیوں، بہنوں یا کمزور ورثاء کو جائیداد سے محروم کرنا، یا بیٹیوں سے جہیز کے نام پر زبردستی وراثت سے دستبرداری کا حلف لینا سخت حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وراثت کی آیات کے بعد متنبہ فرمایا کہ جو اللہ کی ان حدود کو توڑے گا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
Islamic inheritance shares are divinely legislated limits in Surah An-Nisa. Depriving female heirs (daughters and sisters) or forcing them to surrender their share is a catastrophic sin resulting in eternal damnation.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ النساء (An-Nisaa) [4:14] سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ ﴿14﴾
ترجمہ: اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدود سے تجاوز کرے وہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔
English: And whoever disobeys Allah and His Messenger and transgresses His limits - He will put him into the Fire to abide eternally therein, and he will have a humiliating punishment.
📗 حدیث شریف — سنن ابن ماجہ (حدیث 2703) Hasan (حسن - سنن ابن ماجه)
راوی: حضرت انس بن مالک (رضي الله عنه)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «مَنْ فَرَّ مِنْ مِيرَاثِ وَارِثِهِ، قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جس نے اپنے وارث کی وراثت سے فرار اختیار کیا (اس کا حق مارا)، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت میں سے اس کی وراثت (حصہ) کاٹ دے گا۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'Whoever deprives an heir of his inheritance, Allah will deprive him of his inheritance in Paradise on the Day of Resurrection.'
⚖️ فقہی جزئیات:

وارث کے حق میں وصیت جائز نہیں ('لا وصیة لوارث')، اور کسی غیر وارث کے حق میں وصیت کل ترکے کے صرف ایک تہائی (1/3) حصے تک ہی نافذ ہو سکتی ہے۔

💡 عملی نکتہ:

والدین کی وفات کے بعد تاخیر کے بغیر تمام جائیداد شریعت کے مطابق بیٹیوں اور تمام شرعی ورثاء میں فورا تقسیم کریں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: