Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ زکوٰۃ و صدقات سوال نمبر 39

کن رشتہ داروں اور افراد کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے؟

Who are the relatives and individuals that CANNOT be given Zakat?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
درج ذیل افراد کو زکوٰۃ دینا شرعاً جائز نہیں ہے: (۱) اصول (ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی اوپر تک)، (۲) فروع (بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی نیچے تک)، (۳) میاں بیوی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے، (۴) صاحبِ نصاب مالدار شخص اور اس کی نابالغ اولاد، (۵) آلِ محمد ﷺ یعنی ساداتِ کرام (بنو ہاشم) کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں کیونکہ یہ مال کا میل ہے، اور (۶) غیر مسلموں کو فرض زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی (البتہ نفلی صدقہ دیا جا سکتا ہے)۔ بھائی، بہن، چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ اگر غریب ہوں تو انہیں زکوٰۃ دینا نہ صرف جائز بلکہ افضل ہے۔
Ineligible for Zakat: Ascendants (parents, grandparents), descendants (children, grandchildren), spouse, the wealthy, the family of the Prophet (Banu Hashim/Sadat), and non-Muslims (who may receive voluntary charity). Poor siblings and aunts/uncles are eligible and prioritized.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ الإسراء (Al-Israa) [17:26] سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ﴿26﴾
ترجمہ: اور قرابت داروں کو ان کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو، اور فضول خرچی نہ کرو۔
English: And give the relative his right, and [also] the poor and the traveler, and do not spend wastefully.
📗 حدیث شریف — صحیح مسلم (حدیث 1072) Sahih (صحيح مسلم)
راوی: حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ (رضي الله عنه)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَإِنَّهَا لاَ تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلاَ لآلِ مُحَمَّدٍ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'یہ زکوٰۃ درحقیقت لوگوں کے مالوں کا میل کچیل ہے، اور یہ محمد (ﷺ) کے لیے اور آلِ محمد کے لیے حلال نہیں ہے۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'These charities are only the cleansings (impurities) of people's wealth, and they are not lawful for Muhammad or for the family of Muhammad.'
⚖️ فقہی جزئیات:

ساداتِ کرام کی مدد زکوٰۃ کے بجائے ہدیہ، تحفہ اور حلال نذرانے سے کرنا امت پر واجب اور ان کی تعظیم کا تقاضا ہے۔

💡 عملی نکتہ:

اپنے والدین اور اولاد کی ضروریات اپنے ذاتی مال سے پوری کریں کیونکہ ان پر خرچ کرنا فرض ہے، زکوٰۃ سے نہیں ادا کیا جا سکتا۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: