❓ طہارت و نماز
سوال نمبر 26
مسافر کی نماز (قصر) کی شرائط کیا ہیں اور کتنی مسافت پر قصر واجب ہوتا ہے؟
What are the rules and distance criteria for the Traveler's Prayer (Salat al-Qasr)?
🕌
عالم کا مستند جواب
قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
جب کوئی شخص اپنے شہر یا آبادی کی حدود سے باہر تقریباً ۴۸ میل (تقریباً ۷۷.۵ کلومیٹر) کے سفر کی نیت سے نکلے اور کسی ایک مقام پر ۱۵ دن سے کم قیام کا ارادہ ہو تو وہ شرعی مسافر بن جاتا ہے۔ مسافر پر چار رکعت والے فرائض (ظہر، عصر، اور عشاء) کو دو دو رکعت پڑھنا (قصر کرنا) واجب اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت و تحفہ ہے۔ فجر، مغرب اور وتر میں کوئی قصر نہیں ہے، وہ مکمل پڑھے جائیں گے۔
A traveler intending a journey of ~48 miles (77.5 km) and staying less than 15 days shortens (Qasr) 4-unit obligatory prayers (Zuhr, Asr, Isha) to 2 units. Fajr, Maghrib, and Witr are prayed in full.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ النساء (An-Nisaa) [4:101]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ ﴿101﴾
ترجمہ: اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز میں سے قصر کر لو (کچھ کم کر دو)۔
English: And when you travel throughout the land, there is no blame upon you for shortening an aspect of prayer.
📗 حدیث شریف — صحیح مسلم (حدیث 686)
Sahih (صحيح مسلم)
راوی: حضرت یعلیٰ بن امیہ (رضي الله عنه)
«قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے قصر نماز کے بارے میں فرمایا: 'یہ اللہ تعالیٰ کا صدقہ ہے جو اس نے تم پر فرمایا ہے، پس تم اس کا صدقہ قبول کرو۔'
English: The Prophet (ﷺ) said regarding shortening prayer: 'It is a charity that Allah has bestowed upon you, so accept His charity.'
⚖️ فقہی جزئیات:
اگر مسافر کسی مقیم امام کے پیچھے اقتدا کرے تو وہ امام کی متابعت میں پوری چار رکعتیں ہی پڑھے گا، اکیلا پڑھے تو دو پڑھے گا۔
💡 عملی نکتہ:
سفر میں اللہ کی دی ہوئی آسانی اور رخصت کو خوش دلی سے قبول کریں اور چار رکعت والے فرائض کو قصر کر کے دو رکعت ادا کریں۔
🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: