Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ طہارت و نماز سوال نمبر 19

تیمم کب جائز ہوتا ہے اور اس کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

When is Dry Ablution (Tayammum) permissible and what is its correct method?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
تیمم پانی کے نہ ملنے پر (تقریباً ایک میل دور تک پانی نہ ہو) یا پانی کے استعمال سے جان یا بیماری کے بڑھ جانے کا شدید خطرہ ہونے کی صورت میں وضو اور غسل دونوں کے قائم مقام جائز ہوتا ہے۔ تیمم کے تین فرائض ہیں: (۱) نیت کرنا (ناپاکی دور کرنے کی)، (۲) پاک مٹی یا زمین کی جنس پر دونوں ہاتھ مار کر پورے چہرے پر پھیرنا، اور (۳) دوبارہ ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کرنا۔
Tayammum replaces Wudu and Ghusl when water is absent or medically harmful. Method: Intention, striking pure earth with hands and wiping the face, then striking earth again and wiping forearms including elbows.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ النساء (An-Nisaa) [4:43] سورہ میں تلاوت سنیں ←
فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا ﴿43﴾
ترجمہ: پس اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو، چنانچہ اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کا مسح کر لو، بیشک اللہ معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے۔
English: And you find no water, then seek clean earth and wipe over your faces and your hands [with it]. Indeed, Allah is ever Pardoning and Forgiving.
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 338) Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت عمار بن یاسر (رضي الله عنه)
«إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هَكَذَا، فَضَرَبَ بِكَفِّهِ ضَرْبَةً عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ نَفَضَهَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهَا ظَهْرَ كَفِّهِ بِشِمَالِهِ، أَوْ ظَهْرَ شِمَالِهِ بِكَفِّهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ»
ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے تیمم کا طریقہ سکھاتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان کو جھاڑا، پھر بائیں ہاتھ سے دائیں ہتھیلی کی پشت پر مسح کیا یا دائیں ہاتھ سے بائیں ہتھیلی پر، پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے کا مسح فرمایا۔
English: The Prophet (ﷺ) demonstrated: 'It would have been sufficient for you to do this' - he struck his hands on earth, blew off the dust, and wiped his hands and his face.
⚖️ فقہی جزئیات:

جس چیز سے وضو ٹوٹتا ہے اسی سے تیمم بھی ٹوٹ جاتا ہے، اور پانی ملتے ہی یا عذر ختم ہوتے ہی تیمم باطل ہو جاتا ہے اور پانی سے غسل یا وضو فرض ہو جاتا ہے۔

💡 عملی نکتہ:

سفر یا بیماری میں اگر پانی کی تلاش سے نماز قضا ہونے کا خطرہ ہو تو بلا جھجھک تیمم کر کے وقت پر نماز ادا کریں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: