❓ اخلاقیات و تزکیۂ نفس
سوال نمبر 147
اسلام میں جانوروں کے حقوق اور ماحولیات کے تحفظ کی کیا تعلیمات ہیں؟
What are the Islamic teachings regarding animal welfare and environmental conservation?
🕌
عالم کا مستند جواب
قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
اسلام دینِ رحمت ہے جو انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں اور قدرتی ماحول کے حقوق کا بھی مکمل ضامن ہے۔ جانوروں کو بھوکا رکھنا، ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ لادنا، یا ان کو نشانہ بازی کے لیے باندھنا سخت حرام ہے۔ ایک عورت کو صرف اس لیے جہنم کی سزا ہوئی کیونکہ اس نے بلی کو باندھ کر بھوکا مار ڈالا تھا، جبکہ ایک بدکار شخص کو صرف ایک پیاسے کتے کو کنویں سے پانی پلانے پر بخش دیا گیا۔ درخت لگانا، پانی ضائع نہ کرنا اور زمین میں زرخیزی قائم رکھنا اسلام میں صدقۂ جاریہ قرار دیا گیا ہے۔
Islamic ethics encompass animal welfare and ecological care. Abusing animals, overloading beasts of burden, or killing for sport is strictly forbidden. The Prophet (ﷺ) narrated that a woman was punished for starving a cat, while a sinner was forgiven for quenching a thirsty dog. Planting trees is deemed ongoing charity.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ الأنعام (Al-An'am) [6:38]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم ﴿38﴾
ترجمہ: اور زمین میں چلنے والا کوئی جانور اور اپنے دونوں پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں ہے مگر وہ تمہاری ہی طرح کی امتیں ہیں۔
English: And there is no creature on [or within] the earth or bird that flies with its two wings except [that they are] communities like you.
📗 حدیث شریف — صحیح بخاری (حدیث 2365)
Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت ابوہریرہ (رضي الله عنه)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ العَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ العَطَشِ، فَنَزَلَ الرَّجُلُ البِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ فَسَقَى الكَلْبَ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ». قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّ لَنَا فِي البَهَائِمِ لَأَجْرًا؟ فَقَالَ: «فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ»
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص راستے میں جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی، اس نے کنویں میں اتر کر پانی پیا، پھر باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی شدت سے گیلی مٹی چاٹ رہا تھا۔ اس شخص نے دوبارہ کنویں میں اتر کر اپنے چمڑے کے موزے میں پانی بھرا، اسے منہ سے پکڑ کر اوپر چڑھا اور کتے کو پلایا۔ اللہ نے اس کی اس نیکی کی قدر فرمائی اور اسے بخش دیا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا جانوروں پر بھی ہمارے لیے ثواب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہر تر جگر رکھنے والے (جاندار) میں ثواب ہے'۔
English: The Prophet (ﷺ) narrated that a man quenched the thirst of a panting dog using his shoe filled from a well, and Allah appreciated his deed and forgave him. The companions asked: 'Is there reward for us in animals?' He said: 'There is a reward for serving every living being.'
⚖️ فقہی جزئیات:
ذبح کرتے وقت بھی چھری کو اچھی طرح تیز کرنا اور جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کرنا تاکہ اسے تکلیف نہ ہو، نبوی احکامات میں سے ہے۔
💡 عملی نکتہ:
اپنے گھر کی چھت پر پرندوں کے لیے پانی اور دانہ رکھیں اور شجرکاری مہم میں حصہ لے کر ماحول کو سرسبز بنائیں۔
🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: