Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ معاملات و حلال سوال نمبر 145

برین ڈیڈ (Brain Death) مریض سے لائف سپورٹ یا وینٹی لیٹر ہٹانے کا کیا شرعی حکم ہے؟

What is the Shariah ruling on withdrawing life-support machines (ventilators) from a brain-dead patient?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
اسلام میں انسانی جان کا تحفظ بنیادی فرض ہے اور کسی بھی زندہ انسان کو زہر کا ٹیکہ دے کر یا دم گھونٹ کر مارنا (Euthanasia / Mercy Killing) قتلِ عمد اور قطعی حرام ہے۔ البتہ اگر کسی لاعلاج مریض کا دماغی تناؤ اور برین اسٹیم مکمل طور پر فوت ہو چکا ہو (Complete Brain Death)، اور تین آزاد، ماہر اور ثقہ ڈاکٹرز یہ تصدیق کر دیں کہ دماغ ناقابلِ واپسی طور پر مر چکا ہے اور دل صرف بیرونی برقی مشین کے ذریعے عارضی طور پر دھڑک رہا ہے، تو اسلامی فقہ اکیڈمی (جدہ) اور فقہی مجالس کے فتاویٰ کے مطابق ایسے مریض سے وینٹی لیٹر اور مصنوعی تنفس ہٹانا جائز ہے اور یہ قتل کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ لاحاصل مصنوعی تدبیر کو ختم کر کے روح کو پرواز کا قدرتی راستہ دینا ہے۔
Active euthanasia (mercy killing) is strictly forbidden as murder. However, Islamic Fiqh academies decree that withdrawing artificial life support is permissible if a panel of three specialist physicians conclusively confirms complete, irreversible brainstem death, meaning the soul has effectively departed and only mechanical impulses remain.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ النساء (An-Nisa) [4:29] سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ﴿29﴾
ترجمہ: اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر نہایت مہربان ہے۔
English: And do not kill yourselves [or one another]. Indeed, Allah is to you ever Merciful.
📗 حدیث شریف — صحیح بخاری (حدیث 5671) Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت انس بن مالک (رضي الله عنه)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «لاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ المَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، فَإِنْ كَانَ لاَ بُدَّ فَاعِلاً، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الوَفَاةُ خَيْرًا لِي»
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کسی تکلیف کے پہنچنے پر موت کی تمنا ہرگز نہ کرے، اور اگر کوئی چارۂ کار نہ رہے تو یہ دعا کرے: 'اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہے، اور مجھے اس وقت وفات دے جب موت میرے لیے بہتر ہو'۔
English: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'None of you should wish for death because of a harm that has befallen him; but if he must do so, let him say: O Allah, keep me alive as long as life is good for me, and take my soul if death is better for me.'
⚖️ فقہی جزئیات:

اگر مریض کا دماغ فعال ہو اور صرف سانس میں دشواری ہو تو وینٹی لیٹر ہٹانا کسی صورت جائز نہیں ہے۔

💡 عملی نکتہ:

شدید بیماری کے لمحات میں جلد بازی کے فیصلے نہ کریں اور خاندان اور ماہرین کی مشاورت سے شریعت کے مطابق فیصلہ کریں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: