❓ معاملات و حلال
سوال نمبر 127
روایتی کمرشل انشورنس اور اسلامی تکافل میں کیا بنیادی شرعی فرق ہے؟
What is the core Shariah distinction between conventional insurance and Islamic Takaful?
🕌
عالم کا مستند جواب
قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
روایتی کمرشل انشورنس (خواہ لائف انشورنس ہو یا جنرل) تین حرام عناصر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے: (۱) سود (ربا): رقم کے بدلے رقم کی کمی بیشی اور سود پر سرمایہ کاری، (۲) قمار (جوا): پریمیم کی تھوڑی رقم دے کر حادثے کی صورت میں لاکھوں کی امید رکھنا یا کلیم نہ ہونے پر رقم کا ڈوب جانا، اور (۳) غرر (مجہولیت): یہ معلوم نہ ہونا کہ حادثہ کب ہوگا اور کتنا ملے گا۔ اس کے برعکس 'اسلامی تکافل' باہمی تعاون (تبرع) کے اصول پر مبنی ہوتا ہے۔ تمام شرکاء ایک وقف فنڈ میں بطور عطیہ رقم جمع کرتے ہیں اور نقصان کی صورت میں اسی فنڈ سے باہمی مدد کی جاتی ہے، اور فنڈ کا منافع شرعی مضاربت پر تقسیم ہوتا ہے۔
Conventional insurance is impermissible because it contains Riba (usury in investments), Qimar (gambling on premiums), and Gharar (uncertainty). Islamic Takaful replaces this with a cooperative mutual assistance model based on Tabarru' (charitable pooling/endowment) and Shariah-compliant investments.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ المائدة (Al-Ma'idah) [5:2]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ﴿2﴾
ترجمہ: اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور سرکشی کے کاموں میں باہم تعاون نہ کرو۔
English: And cooperate in righteousness and piety, but do not cooperate in sin and aggression.
📗 حدیث شریف — صحیح بخاری (حدیث 2486)
Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت ابو موسیٰ اشعری (رضي الله عنه)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «إِنَّ الأَشْعَرِيِّينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الغَزْوِ، أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالمَدِينَةِ، جَمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ، فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ»
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اشعری قبیلے کے لوگ جب غزوہ میں راشن کم پڑ جاتا یا مدینہ میں ان کے اہل و عیال کا کھانا ختم ہو جاتا تو وہ اپنی ساری چیزیں ایک کپڑے میں جمع کر لیتے، پھر ایک برتن سے برابر بانٹ لیتے۔ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ (یہی تکافل کی اصل بنیاد ہے)۔
English: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When the people of the Ash'ari tribe run short of food during battles or in Madinah, they collect all they have in one sheet and divide it equally among themselves. They are from me and I am from them.'
⚖️ فقہی جزئیات:
اگر کسی ملک میں قانوناً گاڑی یا صحت کی روایتی انشورنس لینا لازمی ہو تو مجبوری کی حالت میں کم سے کم درجے کی قانونی انشورنس لینے کی گنجائش ہے، تاہم حادثے کی صورت میں صرف ادا کردہ پریمیم کی حد تک لینا جائز ہے اور اضافی رقم فقراء میں بغیر نیتِ ثواب تقسیم کر دی جائے۔
💡 عملی نکتہ:
اپنی گاڑی، صحت اور کاروبار کے لیے ہمیشہ مستند شریعہ بورڈ کے تحت چلنے والی اسلامی تکافل کمپنیوں کا انتخاب کریں۔
🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: