مرکزی مواد پر جائیں
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ طہارت و نماز سوال نمبر 111

نمازِ استخارہ کا مسنون طریقہ، دعا اور خواب کے متعلق صحیح شرعی نقطۂ نظر کیا ہے؟

What is the Sunnah method and supplication of Salat al-Istikharah, and what is the ruling on dreams regarding it?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
استخارہ کے معنی اللہ سے خیر اور بھلائی طلب کرنے کے ہیں۔ کسی بھی جائز اور اہم مباح کام (جیسے نکاح، سفر، ملازمت، کاروبار) کا فیصلہ کرنے کے لیے دو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے پڑھیں، پھر نماز کے بعد نبی ﷺ کی سکھائی ہوئی مسنون دعا 'اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ...' پڑھیں۔ عوام میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ استخارہ کے بعد خواب کا آنا ضروری ہے؛ شرعی حقیقت یہ ہے کہ استخارہ کے بعد جس فیصلے کی طرف دل کا اطمینان اور میلان ہو اور اسباب میں آسانی پیدا ہو جائے وہی اللہ کا خیر کا فیصلہ ہوتا ہے۔
Salat al-Istikharah is seeking Allah's guidance in permissible decisions. One performs two voluntary Rakat followed by the Prophet's comprehensive supplication. Contrary to common myth, seeing a dream is not required; rather, divine guidance manifests in peace of heart and smooth facilitation of the matter.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ آل عمران (Ali 'Imran) [3:159] سورہ میں تلاوت سنیں ←
فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ ﴿159﴾
ترجمہ: پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسا رکھیں، بے شک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔
English: Then when you have decided, then rely upon Allah. Indeed, Allah loves those who rely [upon Him].
📗 حدیث شریف — صحیح بخاری (حدیث 1162) Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت جابر بن عبداللہ (رضي الله عنه)
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الأُمُورِ كُلِّهَا كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ القُرْآنِ، يَقُولُ: «إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ...»
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام معاملات میں استخارہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ آپ فرماتے تھے: 'جب تم میں سے کوئی کسی معاملے کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے، پھر یہ کہے: اے اللہ! میں تیرے علم کے وسیلے سے تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں...'۔
English: The Messenger of Allah (ﷺ) used to teach us Istikharah in all matters just as he taught us a Surah from the Quran, saying: 'When one of you intends an action, let him pray two Rakat besides the obligatory prayer and then say: O Allah, I seek Your counsel through Your knowledge...'
⚖️ فقہی جزئیات:

واجبات اور فرائض کی ادائیگی میں استخارہ نہیں ہوتا اور نہ ہی حرام و ناجائز امور میں استخارہ جائز ہے؛ استخارہ صرف مباح اور جائز امور میں ہوتا ہے۔

💡 عملی نکتہ:

کسی بھی اہم زندگی کے فیصلے سے قبل پہلے اہل علم و تجربہ کار افراد سے مشورہ (استشارہ) کریں، پھر دو رکعت استخارہ پڑھ کر توکل کے ساتھ قدم بڑھائیں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: