❓ طہارت و نماز
سوال نمبر 106
تیمم کن صورتوں میں جائز ہے اور اس کا مسنون طریقہ کیا ہے؟
Under what circumstances is Tayammum permissible and what is the Sunnah method of performing it?
🕌
عالم کا مستند جواب
قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
تیمم وضو اور غسل دونوں کا شرعی متبادل ہے، اور یہ دو بنیادی وجوہات سے جائز ہوتا ہے: (۱) پانی کا بالکل نہ ملنا (تقریباً ایک میل کی دوری تک)، یا (۲) پانی کے استعمال سے شدید بیماری، ہلاکت یا عضو ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔ تیمم کا مسنون طریقہ یہ ہے: نیت کر کے پاک مٹی پر دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کشادہ کر کے ایک بار ماریں، ہاتھوں کو جھاڑ کر پورے چہرے پر ملیں، پھر دوسری بار مٹی پر ہاتھ مار کر دونوں کہنیوں سمیت ہاتھوں کا خلال اور مسح کریں۔
Tayammum (dry ablution) substitutes Wudu and Ghusl when clean water is unavailable within roughly one mile, or when its use would cause serious illness or injury. The method is to intend purification, strike clean earth, wipe the face, then strike again and wipe both arms up to the elbows.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ النساء (An-Nisa) [4:43]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا ﴿43﴾
ترجمہ: پھر اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مسح کر لو، بے شک اللہ معاف فرمانے والا اور بخشنے والا ہے۔
English: And you find no water, then seek clean earth and wipe over your faces and your hands [with it]. Indeed, Allah is ever Pardoning and Forgiving.
📗 حدیث شریف — صحیح بخاری (حدیث 338)
Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت عمار بن یاسر (رضي الله عنه)
قَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هَكَذَا»، فَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ ضَرْبَةً عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ نَفَضَهُمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا ظَهْرَ كَفِّهِ بِشِمَالِهِ أَوْ شِمَالَهُ بِظَهْرِ كَفِّهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ
ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے حضرت عمار سے فرمایا: 'تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا'۔ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، انہیں جھاڑا، پھر اپنے چہرے اور اپنی ہتھیلیوں کا مسح فرمایا۔
English: The Prophet (ﷺ) said to Ammar: 'It would have been sufficient for you to do like this.' He then struck the earth with both hands, blew off the dust, and wiped his face and palms.
⚖️ فقہی جزئیات:
جیسے ہی پانی میسر آ جائے یا بیماری کا عذر ختم ہو جائے، تیمم خودبخود باطل ہو جاتا ہے اور وضو یا غسل کرنا فرض ہو جاتا ہے۔
💡 عملی نکتہ:
سفر میں یا ہسپتال میں بیماری کی حالت میں جہاں پانی استعمال کرنا ناممکن ہو، ایک پاک مٹی کے ڈھیلے یا ٹائل پر تیمم کر کے نماز وقت پر ادا کریں۔
🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: