📜
نهج البلاغة
نہج البلاغہ
خطبہ 47
ومن كلام له (عليه السلام) في ذكر الكوفة
كَأَنَّي بِكِ يَاكُوفَةُ تُمَدِّينَ مَدَّ الاْدَيمِ الْعُكَاظِيِّ، تُعْرَكِينَ بِالنَّوَازِلِ، وَتُرْكَبِينَ بِالزَّلاَزِلِ، وَإِنَّي لاَعْلَمُ أَنَّهُ مَاأَرَادَ بِكِ جَبَّارٌ سُوءاً إِلاَّ ابْتَلاَهُ اللهُ بِشَاغِل، وَرَمَاهُ بِقَاتِل!
🇵🇰 اردو ترجمہ
امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالبؑ کا خطبہ نمبر 47: اس عظیم کلام میں امیر المؤمنین نے کوفہ پر آنے والے مصائب اور حجاج بن یوسف کے مظالم کی پیشگوئی کے حوالے سے بصیرت افروز ارشادات اور حکمت کے موتی ارشاد فرمائے۔
🇬🇧 English Translation
About calamities befalling Kūfah
O Kūfah, as though I see you being drawn like the tanned leather of ‘Ukaẓi [1] in the market, you are being scraped by calamities and being ridden by severe troubles. I certainly [2] know that if any tyrant intends evil for you Allāh will afflict him with worry and fling him with a killer (set someone on him to kill him).
موضوعات:
🔮 اس خطبہ کے معانی و تشریح جاننا چاہتے ہیں؟