📜
نهج البلاغة
نہج البلاغہ
خطبہ 14
ومن كلام له (عليه السلام) في مثل ذلك
أرْضُكُمْ قَرِيبَةٌ مِنَ المَاءِ، بَعِيدَةٌ مِنَ السَّماءِ، خَفَّتْ عُقُولُكُمْ، وَسَفِهَتْ حُلُومُكُمْ، فَأَنْتُمْ غَرَضٌ لِنَابِل، وَأُكْلَةٌ لاِكِل، وَفَرِيسَةٌ لِصائِد.
🇵🇰 اردو ترجمہ
امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالبؑ کا خطبہ نمبر 14: اس عظیم کلام میں امیر المؤمنین نے سرزمینِ بصرہ کی تباہی اور غرقابی کی تاریخی پیشگوئی کے حوالے سے بصیرت افروز ارشادات اور حکمت کے موتی ارشاد فرمائے۔
🇬🇧 English Translation
This also is in condemnation of the people of Baṣrah
Your earth is close to the sea and away from the sky. Your wits have become light and your minds are full of folly. You are the aim of the archer, a morsel for the eater and an easy prey for the hunter.
موضوعات:
🔮 اس خطبہ کے معانی و تشریح جاننا چاہتے ہیں؟