Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ معاملات و حلال و حرام سوال نمبر 64

سود (ربا) کی حرمت، قباحت اور قرآنی وعید کیا ہے؟

What is the severe prohibition and Quranic condemnation of Usury and Interest (Riba)?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
سود (چاہے بینک کا سود ہو یا ذاتی لین دین کا) اسلام میں قطعی حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔ قرآنِ مجید میں سود خوروں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان سنایا گیا ہے۔ سود معاشرے میں ظلم، استحصال اور غربت پھیلاتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے سود لینے والے، سود دینے والے، سودی معاہدہ لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ وہ سب گناہ میں برابر ہیں۔ سود کا ایک درہم پینتیس بار زنا کرنے سے زیادہ سخت گناہ ہے۔
Riba (interest/usury) is unequivocally forbidden. The Quran declares it a war against Allah and His Messenger. The Prophet cursed the receiver, payer, scribe, and witnesses of interest, declaring them equal in sin.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ البقرة (Al-Baqarah) [2:278] سورہ میں تلاوت سنیں ←
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۝ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ﴿278﴾
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو۔ پس اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو۔
English: O you who have believed, fear Allah and give up what remains of [due to you of] interest, if you should be believers. And if you do not, then be informed of a war [against you] from Allah and His Messenger.
📗 حدیث شریف — صحیح مسلم (حدیث 1598) Sahih (صحيح مسلم)
راوی: حضرت جابر بن عبداللہ (رضي الله عنه)
«لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے پر، سود کھلانے والے پر، سودی حساب لکھنے والے پر، اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی، اور فرمایا: 'وہ سب گناہ میں برابر ہیں۔'
English: Allah's Messenger (ﷺ) cursed the accepter of interest and its payer, and one who recorded it, and the two witnesses, and he said: 'They are all equal (in sin).'
⚖️ فقہی جزئیات:

اگر کسی مجبوری سے بینک اکاؤنٹ میں سود آ جائے تو اسے بغیر ثواب کی نیت کے غرباء و مساکین کو دے کر اپنے مال کو پاک کرنا واجب ہے۔

💡 عملی نکتہ:

روایتی سودی بینکوں سے اپنے کھاتے بند کر کے غیر سودی اسلامی بینکاری یا حلال بچت اسکیموں کی طرف منتقل ہوں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: