Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ عقائد و ایمان سوال نمبر 5

تقدیر پر ایمان لانے کا کیا مفہوم ہے اور کیا انسان اپنے اعمال میں مجبور ہے؟

What does belief in Divine Destiny (Qadar) entail, and does man have free will?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
تقدیر پر ایمان کے چار درجات ہیں: (۱) علمِ الٰہی (اللہ ہمیشہ سے ہر چیز جانتا ہے)، (۲) کتابت (لوحِ محفوظ میں سب کچھ لکھ دیا گیا)، (۳) مشیئت (جو اللہ چاہے وہی ہوتا ہے)، اور (۴) خلق (اللہ ہر چیز کا خالق ہے)۔ انسان بالکل مجبورِ محض نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے عقل اور ارادہ و اختیار دیا ہے جس کی بنیاد پر وہ جزا اور سزا کا مستحق بنتا ہے۔
Belief in Qadar has 4 levels: Divine Knowledge, Writing in the Preserved Tablet, Divine Will, and Creation. Humans are given intellect and free choice to act, which makes them accountable.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ القمر (Al-Qamar) [54:49] سورہ میں تلاوت سنیں ←
إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ ﴿49﴾
ترجمہ: بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے (تقدیر) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
English: Indeed, all things We created with predestination (Qadar).
📗 حدیث شریف — جامع ترمذی (حدیث 2516) Hasan Sahih (حسن صحيح - جامع الترمذي)
راوی: حضرت عبداللہ بن عباس (رضي الله عنهما)
«وَاعْلَمْ أَنَّ الأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلاَّ بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلاَّ بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الأَقْلاَمُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ»
ترجمہ: آپ ﷺ نے فرمایا: 'جان لو کہ اگر تمام لوگ مل کر تمہیں کوئی فائدہ پہنچانا چاہیں تو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے مگر وہی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ سب تمہیں نقصان پہنچانے پر جمع ہو جائیں تو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'Know that if the entire nation were to gather together to benefit you, they could not do so except with what Allah has decreed for you... The pens have been lifted and the scrolls have dried.'
⚖️ فقہی جزئیات:

گناہ کر کے تقدیر کو الزام دینا باطل ہے، کیونکہ انسان گناہ اپنی پسند اور ارادے سے کرتا ہے نہ کہ کسی جبری حکم کے تحت۔

💡 عملی نکتہ:

کامیابی پر اترانے کے بجائے شکر ادا کریں، اور مصیبت پر مایوس ہونے کے بجائے صبر کریں کیونکہ سب کچھ حکمتِ الٰہی کے تحت ہے۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: