❓ زکوٰۃ و صدقات
سوال نمبر 45
تنگ دست کو قرضِ حسنہ دینے اور مہلت دینے کا کیا ثواب ہے؟
What is the virtue of extending loans to those in need (Qard Hasan) and granting respite to debtors?
🕌
عالم کا مستند جواب
قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
کسی مجبور مسلمان کو قرضِ حسنہ دینا صدقہ سے بھی زیادہ ثواب رکھتا ہے، کیونکہ صدقہ کبھی غیر محتاج کے پاس بھی چلا جاتا ہے مگر قرض صرف انتہائی ضرورت مند ہی مانگتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص کسی تنگ دست مقروض کو مہلت دے، اللہ تعالیٰ اسے ہر دن اتنے مال کے صدقے کا ثواب عطا فرماتا ہے، اور جو مقروض کو قرض معاف کر دے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اپنے عرش کے سائے تلے جگہ عطا فرمائے گا۔
Giving a generous loan (Qard Hasan) carries immense reward. Respite granted to a struggling debtor earns daily charity rewards, while forgiving debt guarantees shade under the Divine Throne.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ البقرة (Al-Baqarah) [2:280]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿280﴾
ترجمہ: اور اگر مقروض تنگ دست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو، اور اگر تم صدقہ کر کے معاف کر دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔
English: And if someone is in hardship, then [let there be] postponement until [a time of] ease. And if you give [from your right as] charity, then it is better for you, if you only knew.
📗 حدیث شریف — صحیح مسلم (حدیث 3006)
Sahih (صحيح مسلم)
راوی: حضرت ابوقتادہ (رضي الله عنه)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللَّهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ أَوْ يَضَعْ عَنْهُ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جسے یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی مصیبتوں اور سختیوں سے نجات دے، تو اسے چاہیے کہ وہ تنگ دست مقروض کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'He who loves that Allah should save him from the distresses of the Day of Resurrection should grant respite to one in straitened circumstances, or remit his debt.'
⚖️ فقہی جزئیات:
قرض دیتے وقت تحریر لکھنا اور گواہ بنانا سنتِ قرآنی (آیتِ مداینہ) ہے تاکہ بعد میں فتنہ اور تنازع پیدا نہ ہو۔
💡 عملی نکتہ:
اگر کسی غریب پر آپ کا قرض ہو اور وہ واقعی ادا کرنے سے عاجز ہو تو اسے ڈانٹنے کے بجائے مہلت دیں یا ثواب کی نیت سے کچھ حصہ معاف کر دیں۔
🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: