❓ طہارت و نماز
سوال نمبر 17
وضو توڑنے والی چیزیں (نواقضِ وضو) کون سی ہیں؟
What are the nullifiers of Wudu (Nawaqid al-Wudu)?
🕌
عالم کا مستند جواب
قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
وضو درج ذیل اسباب سے ٹوٹ جاتا ہے: (۱) پیشاب، پاخانہ، یا ریح (ہوا) کا سبیلین (اگلی یا پچھلی شرمگاہ) سے خارج ہونا، (۲) جسم کے کسی حصے سے خون یا پیپ نکل کر ایسی جگہ بہہ جانا جسے طہارت میں دھونا لازم ہے، (۳) منہ بھر کر قے (الٹی) آنا، (۴) ٹیک لگا کر، لیٹ کر یا اوندھے منہ سو جانا جس سے حواس معطل ہو جائیں، (۵) بے ہوشی، جنون یا نشہ طاری ہونا، اور (۶) بالغ آدمی کا رکوع و سجود والی باجماعت نماز میں قہقہہ لگا کر (زور سے) ہنسنا۔
Nullifiers include: discharge from private parts (urine, stool, gas), blood or pus flowing from the body, mouthful vomiting, sleeping deeply while leaning, loss of consciousness, and audible laughing in prayer.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ النساء (An-Nisaa) [4:43]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا ﴿43﴾
ترجمہ: یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے قضاءِ حاجت کر کے آیا ہو... پس تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔
English: Or one of you comes from the place of relieving himself... and you find no water, then seek clean earth and wipe over your faces and hands.
📗 حدیث شریف — صحیح البخاری (حدیث 135)
Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت ابوہریرہ (رضي الله عنه)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «لاَ تُقْبَلُ صَلاَةُ مَنْ أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'بے وضو ہو جانے والے شخص کی نماز قبول نہیں کی جاتی جب تک کہ وہ دوبارہ وضو نہ کر لے۔'
English: The Prophet (ﷺ) said: 'The prayer of a person who does Hadath (passes wind, urine, etc.) is not accepted until he performs ablution.'
⚖️ فقہی جزئیات:
محض ہوا کا شک ہونے سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک کہ آواز نہ سنے یا بدبو محسوس نہ کرے۔
💡 عملی نکتہ:
اگر وضو کے بعد شک پیدا ہو تو اپنے وضو کو برقرار سمجھیں اور شیطانی وسوسوں پر توجہ نہ دیں۔
🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: