Skip to main content
🕌 اسلامی کوئیک ٹولز و سائیڈ بار
❓ فضائل، اذکار و سیرت سوال نمبر 150

علمِ دین حاصل کرنے کی فرضیت، علماء کی فضیلت اور علم کے بغیر فتویٰ دینے کا کیا گناہ ہے؟

What is the obligation of seeking sacred knowledge, the rank of true scholars, and the sin of giving baseless fatwas?

🕌
عالم کا مستند جواب قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
اتنا علمِ دین حاصل کرنا جس سے انسان اپنے عقائد کو درست رکھ سکے اور اپنے روزمرہ فرائض (طہارت، نماز، روزہ، حلال و حرام کاروبار) کو جان سکے، ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرضِ عین ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص علم کی تلاش کے راستے پر چلتا ہے اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے، اور فرشتے طالبِ علم کے قدموں تلے اپنے پر بچھاتے ہیں۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ علم کے بغیر فتوے دینا، شریعت کی من مانی تاویل کرنا اور حلال کو حرام یا حرام کو حلال کہنا اللہ پر بہتان باندھنا ہے اور جہنم کا راستہ ہے۔
Acquiring fundamental Islamic knowledge to correct one's belief and fulfill daily obligations is an individual duty (Fard 'Ayn). The Prophet (ﷺ) declared that whoever treads a path seeking knowledge, Allah eases for him the path to Paradise. Issuing religious rulings without verified knowledge is a grave sin.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ فاطر (Fatir) [35:28] سورہ میں تلاوت سنیں ←
إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ ﴿28﴾
ترجمہ: اللہ کے بندوں میں سے تو وہی اس سے ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں، بے شک اللہ زبردست بخشنے والا ہے۔
English: Only those fear Allah, from among His servants, who have knowledge. Indeed, Allah is Exalted in Might and Forgiving.
📗 حدیث شریف — جامع ترمذی (حدیث 2682) Sahih (صحيح - سنن الترمذي وأبو داود)
راوی: حضرت ابو الدرداء (رضي الله عنه)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَبْتَغِي فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الجَنَّةِ، وَإِنَّ المَلاَئِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ العِلْمِ، وَإِنَّ العَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ حَتَّى الحِيتَانُ فِي المَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ العَالِمِ عَلَى العَابِدِ كَفَضْلِ القَمَرِ عَلَى سَائِرِ الكَوَاكِبِ، إِنَّ العُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ»
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔ اور فرشتے طالبِ علم کی خوشنودی کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ اور عالم کے لیے آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوق، یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں بھی مغفرت مانگتی ہیں۔ اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہے جیسے چودھویں کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر۔ اور بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں۔
English: The Prophet (ﷺ) said: 'Whoever treads a path seeking knowledge, Allah will lead him onto a path to Paradise. The angels lower their wings in pleasure for the seeker of knowledge. The inhabitants of the heavens and the earth, even the fish in the water, ask forgiveness for the scholar... Indeed, the scholars are the heirs of the Prophets.'
⚖️ فقہی جزئیات:

دینی مسائل میں خود رائی اختیار کرنے کے بجائے معتبر ثقہ علماء اور باقاعدہ مفتیان سے رجوع کرنا شرعاً فرض ہے۔

💡 عملی نکتہ:

روزانہ کم از کم 15 منٹ قرآن و حدیث کا بامعنی مطالعہ کریں اور اپنے فہمِ دین کو مستند کتب سے مسلسل نکھارتے رہیں۔

🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: