❓ حقوق و خاندانی زندگی
سوال نمبر 134
اسلامی قانونِ وراثت (میراث) کے بنیادی قرآنی اصول اور ترکے کی تقسیم کی ترتیب کیا ہے؟
What are the fundamental Quranic principles and sequential order of Islamic Inheritance (Mirath)?
🕌
عالم کا مستند جواب
قرآن مجید اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں
اسلام میں وراثت کا نظام خود اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید (سورۃ النساء) میں متعین فرمایا ہے اور کسی کو اس میں تبدیلی کا اختیار نہیں۔ میت کے ترکے کی تقسیم سے قبل چار مراحل کی ترتیب لازم ہے: (۱) تجہیز و تکفین کے جائز اخراجات، (۲) میت کے تمام واجب الادا قرضوں کی ادائیگی، (۳) ایک تہائی (1/3) مال کی حد تک جائز وصیت کی تنفیذ، اور (۴) بقیہ تمام جائیداد کی شرعی ورثاء (اصحاب الفروض اور عصبات) میں تقسیم۔ بنیادی اصول یہ ہے کہ بیٹوں، بیٹیوں، والدین، اور بیوی/شوہر کو حق دیا جائے، جس میں عموماً بیٹے کا حصہ بیٹی کے مقابلے میں دوگنا رکھا گیا ہے کیونکہ مرد پر خاندان کے تمام مالی نفقے کی شرعی ذمہ داری ہے۔ بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
The Islamic law of succession is divinely ordained in Surah An-Nisa. Before estate distribution: (1) Funeral expenses; (2) Debt settlement; (3) Execution of valid bequests up to 1/3; (4) Division among rightful heirs. Daughters must receive their mandated shares; depriving them is a grave sin.
📚 دلائل و حوالہ جات (قرآن و حدیث)
📖 قرآن کریم — سورۃ النساء (An-Nisa) [4:11]
سورہ میں تلاوت سنیں ←
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ ... فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿11﴾
ترجمہ: اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم فرماتا ہے: لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔۔۔ یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ فریضہ ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا بڑی حکمت والا ہے۔
English: Allah instructs you concerning your children: for the male, what is equal to the share of two females... an ordinance from Allah. Indeed, Allah is ever Knowing and Wise.
📗 حدیث شریف — صحیح بخاری (حدیث 6732)
Sahih (صحيح البخاري)
راوی: حضرت عبداللہ بن عباس (رضي الله عنهما)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ»
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مقررہ حصے ان کے حقداروں تک پہنچا دو، پھر جو باقی بچ جائے وہ سب سے قریبی مذکر رشتہ دار کا ہے۔
English: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Give the Fara'id (prescribed shares) to those who are entitled to receive them; and then whatever remains goes to the closest male relative.'
⚖️ فقہی جزئیات:
وارث کے لیے وصیت کرنا باطل ہے (لا وصية لوارث)؛ وصیت صرف غیر وارث شخص یا خیراتی کام کے لیے کل ترکے کے ایک تہائی سے کی جا سکتی ہے۔
💡 عملی نکتہ:
میت کے انتقال کے فوری بعد وراثت کی شرعی تقسیم کرائیں، جائیداد پر غیر قانونی قبضہ کر کے بہنوں اور بیٹیوں کا حق غصب نہ کریں۔
🔮 اس موضوع پر عالم AI سے مزید سوال پوچھیں: